کبھی تجھ کو رلائیں گے یہ زخموں کو ہوا دیں گے
تجھے اشکوں کے دریا میں تیرے اپنے ڈبا دیں گے
کبھی ٹوٹے ہوئے حالات میں آواز دینا تم
ترے اپنے تجھے اوقات پل بھر میں بتا دیں گے
ذرا سا سوچ لے پتلے تجھے مٹی میں ملنا ہے
جلا دیں گے دبا دیں گے تجھے مٹی بنا دیں گے
جنہیں چلنا سکھایا تھا جنہیں کاندھے اٹھایا تھا
کریں گے کچھ دنوں تک یاد پھر تجھ کو بھلا دیں گے
تری دولت کا بٹوارہ سر محفل کریں گے پھر
ترے جو نام کی تختی لگی اس کو ہٹادیں گے
عالم مسافر
رشی کیش، اترا کھنڈ انڈیا
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 13167
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 13167 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 13167
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply