Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل کا فکری و فنی جائزہ تحریر: محمد عثمان پھلروان (ایم فل اُردو)

Literature - جہانِ ادب , Snippets , / Thursday, January 22nd, 2026

rki.news

شاعر: نواز ساجد نواز
( ایم فل اردو.ایم ایڈ)

نواز ساجد نواز کی زیرِ نظر غزل سادگی، خلوص اور انسانی اقدار کی ترجمان ہے۔ یہ غزل محض عشقیہ جذبات کی آئینہ دار نہیں بلکہ محبت کو ایک ہمہ گیر انسانی اور اخلاقی قدر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ شاعر نے اس غزل میں محبت کو فطرت، کائنات، دکھ، بیماری، محرومی اور روحانی روشنی کے تناظر میں برتا ہے جو اس کے فکری پختگی کا ثبوت ہے۔

فکری پہلو

غزل کا بنیادی فکری محور محبت ہے، مگر یہ محبت روایتی محبوب تک محدود نہیں رہتی بلکہ شاعر اسے کلیوں، پھولوں، خاروں، بیماروں، رونے والوں اور محروم طبقات تک پھیلا دیتا ہے:

> کلیوں پھولوں خاروں سے
پیار کرو ان پیاروں سے

یہاں شاعر محبت کو فطرت کے تمام مظاہر تک وسعت دیتا ہے۔ خاروں کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ زندگی کی تلخیوں اور اذیتوں سے بھی محبت کا رشتہ قائم کیا جائے۔ یہ فکر صوفیانہ آہنگ رکھتی ہے جہاں ہر شے محبت کے دائرے میں آتی ہے۔

> پیار کرو جی بھر کر تم
روگی اور بیماروں سے

یہ شعر شاعر کے انسانی شعور اور سماجی احساس کا آئینہ دار ہے۔ یہاں محبت کو ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔ شاعر کا یہ رویہ جدید اردو غزل میں سماجی شعور کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

علامتی اور استعاراتی جہت

> رات کے پچھلے پہر ہوئی
گپ شپ ٹوٹے تاروں سے

یہ شعر تنہائی، خاموشی اور کائناتی ہم کلامی کی علامت ہے۔ “ٹوٹے تارے” انسانی خوابوں، ناکام خواہشوں یا گزرتے لمحوں کی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔ رات کا پچھلا پہر روحانی بیداری اور باطنی مکالمے کا وقت ہے۔

> سیخ کباب کے گر میں نے
سیکھے ہیں انگاروں سے

یہ شعر تجربۂ حیات کا نچوڑ ہے۔ “انگارے” یہاں زندگی کی سختیوں، آزمائشوں اور جلتے ہوئے تجربات کی علامت ہیں۔ شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل سیکھ انہی تلخ حالات سے حاصل ہوتی ہے۔

فنی محاسن

فنی اعتبار سے غزل کی زبان نہایت سادہ، رواں اور عام فہم ہے، جو اس کی تاثیر کو بڑھا دیتی ہے۔ بحر میں روانی ہے اور قوافی و ردیف کا التزام فطری محسوس ہوتا ہے۔ ہر شعر ایک مکمل خیال رکھتا ہے، جو غزل کی کلاسیکی روایت کے عین مطابق ہے۔

تشبیہات اور استعارات روزمرہ زندگی سے ماخوذ ہیں، جس سے غزل میں تصنع پیدا نہیں ہوتا۔ یہی سادگی نواز ساجد کی انفرادی پہچان بنتی ہے۔

> بے شک ساجد ہے روشن
جگ مگ ہے انواروں سے

مقطع میں شاعر نے اپنے تخلص کو نہایت خوبصورتی سے برتا ہے۔ “روشن” اور “انوار” کے الفاظ روحانی اور فکری بالیدگی کی علامت ہیں، جو پوری غزل کے فکری تسلسل کو مکمل کرتے ہیں۔

مجموعی تاثر

نواز ساجد نواز کی یہ غزل محبت، انسان دوستی، تجربۂ حیات اور روحانی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ شاعر نے سادہ الفاظ میں گہری بات کہی ہے جو دیر تک قاری کے ذہن پر اثر چھوڑتی ہے۔ یہ غزل اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دور میں بھی اردو غزل اپنے فکری وقار اور فنی حسن کے ساتھ زندہ و تابندہ ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ نواز ساجد نواز کی یہ غزل فکری اعتبار سے وسیع، فنی لحاظ سے مربوط اور جمالیاتی سطح پر اثر انگیز ہے، اور قاری کو محبت کے ایک نئے، وسیع اور انسانی مفہوم سے روشناس کراتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International