rki.news
کالم نگار:
سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
انسان کی اصل کہانی کامیابی کے لمحے سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت جنم لیتی ہے جب وہ اپنی ہی نظر میں گر جاتا ہے۔ کامیابی اکثر شور مچاتی ہے، مگر غلطی خاموشی سے انسان کے اندر ایک نیا انسان تراش دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی بار خود کو آئینے میں نہیں، اپنے اندر دیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ سمجھ رہا تھا، شاید وہ سب نہیں تھا۔ یہی ادراک اسے انسان بناتا ہے۔
ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں غلطی کو جرم بنا دیا گیا ہے، اور سیکھنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ تاریخ اس کے بالکل برعکس گواہی دیتی ہے۔ اگر انسان کبھی غلطی نہ کرتا تو وہ آج بھی غار میں بیٹھا آگ سے ڈرتا ہوتا۔ آگ جلانے کی پہلی کوشش بھی ایک خطرناک غلطی تھی، مگر اسی غلطی نے انسان کو سرد راتوں، جنگلوں اور خوف سے نجات دلائی۔ ترقی دراصل غلطیوں کی تہہ در تہہ داستان ہے۔
تھامس ایڈیسن کا واقعہ صرف سائنسی مثال نہیں، ایک انسانی سبق بھی ہے۔ ہزاروں ناکام تجربات کے بعد اس کا یہ کہنا کہ “میں ناکام نہیں ہوا، میں نے سیکھا ہے” دراصل یہ بتاتا ہے کہ انسان کی اصل ہار باہر نہیں، اندر ہوتی ہے۔ جس دن انسان اپنی غلطی کو اپنی ذات پر حملہ سمجھنا چھوڑ دے، وہی دن اس کی فکری آزادی کا آغاز ہوتا ہے۔
تاریخ کے بڑے نام اگر کھول کر دیکھے جائیں تو وہ سب کسی نہ کسی “غلط فیصلے” کے بعد بڑے بنے۔ نپولین کی شکست نے یورپ کو نئی سیاسی سمجھ دی، لنکن کی بار بار ناکامیاں اسے صبر اور بصیرت سکھا گئیں، اور قائداعظم کی ابتدائی سیاسی تنہائی نے اسے اصولوں پر کھڑا رہنا سکھایا۔ یہ سب لوگ اگر اپنی لغزشوں سے خوف زدہ ہو جاتے تو شاید تاریخ انہیں بھول چکی ہوتی۔
نفسیاتی طور پر بھی انسان کی شخصیت غلطیوں ہی سے تشکیل پاتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وہ شخص جو کبھی غلطی ماننے کو تیار نہ ہو، دراصل اندر سے عدمِ تحفظ کا شکار ہوتا ہے۔ اسے سچ سے نہیں، اپنی ٹوٹی ہوئی تصویر سے خوف آتا ہے۔ اس کے برعکس، جو انسان اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے، وہ اندرونی سکون پا لیتا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں رہتا۔
سماجی زندگی میں رشتے اکثر اس لیے بکھرتے ہیں کہ ہم درست ہونے کو انسان ہونے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ ایک باپ، ایک ماں، ایک شریکِ حیات، سب کہیں نہ کہیں غلط ہوتے ہیں، مگر مسئلہ غلطی نہیں، ضد ہے۔ اگر انسان یہ مان لے کہ “میں غلط تھا” تو بہت سے فاصلے پل بھر میں سمٹ سکتے ہیں۔ معاشرہ دراصل معافی مانگنے والوں سے نہیں، معافی نہ مانگنے والوں سے ٹوٹتا ہے۔
مذہبی فکر بھی انسان کو فرشتہ نہیں بناتی، بلکہ ذمہ دار انسان بناتی ہے۔ خطا کو انسان کی فطرت کہا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ رجوع، توبہ اور اصلاح کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ یہی توازن انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے۔ اگر غلطی کے بعد واپسی ممکن نہ ہوتی تو شاید انسان کبھی خود سے محبت کرنا ہی نہ سیکھ پاتا۔
زندگی کے تجربات یہی سکھاتے ہیں کہ جو انسان اپنی ٹھوکر کو سمجھ لیتا ہے، وہ دوسروں کے لیے راستہ بن جاتا ہے۔ اور جو اپنی غلطی پر پردہ ڈال لیتا ہے، وہ خود اپنے اندر قید ہو جاتا ہے۔ اصل کامیابی بے داغ ہونا نہیں، بلکہ باخبر ہونا ہے—اپنی کمزوریوں سے، اپنی حدود سے، اور اپنی انسانیت سے۔
آخر کار سوال یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہوتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ غلطی کے بعد کیا انتخاب کرتا ہے۔ کیونکہ غلطیاں اگر انسان کو نہ بناتیں تو سب سے بڑے انسان سب سے زیادہ معصوم ہوتے، اور حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑے انسان وہی ہیں جنہوں نے اپنی غلطیوں سے سب سے زیادہ سیکھا۔
⭐✨⭐✨⭐
Leave a Reply