rki.news
احمد وکیل علیمی
دوردرشن کولکاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد اسلامی معاشرے کی مرکزِ روحانیت، اجتماعیت اور تربیّت ہوتی ہے۔ اس کی تعمیرمحض، اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ نیّت ، اخلاص اور اجتماعی تعاون کا مظہر ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مساجد کی تعمیر میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا، اور اسے صدقۀ جاریہ سمجھ کر اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیا۔تاہم عصر حاضر میں ایک افسوس ناک صورتِ حال یہ دیکھنے کو ملی ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے مالی امداد یا سامانِ تعمیر فراہم کرنے کے وعدے تو بڑے طمطراق و کثرت سے کیے جاتے ہیں مگر ان وعدوں کی تکمیل میں کوتاہی عام ہوتی جارہی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں وعدہ محض زبانی کلمہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور شرعی ذمےّداری ہے۔ نبی کریمؐ نے واضح طور پر فرمایا ہے۔”منافق کی تین نشانیاں ہیں(۱) جب بات کرے جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور(۳) جب امانت دی جائے تو خیانت کرے(صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اس حدیث کی روشنی میں وعدہ خلافی محض ایک سماجی کمزوری نہیں، بلکہ ایمان کے دعوے پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ خاص طور پر مسجد جیسے مقدس اور اجتماعی منصوبے میں وعدہ پورا نہ کرنا ایک دوہری خرابی کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف دینی کام میں رکاوٹ، اور دوسری طرف باہمی اعتماد کا زوال۔۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے کیے گئے وعدے اکثر جذبۀ وقتی ، جذباتی ماحول یا سماجی دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جب کہ بعد میں مالی تنگی ، ترجیحات کی تبدیلی یا غفلت کو جواز بنا لیا جاتا ہے۔حالاں کہ اسلام انسان کو اسی بات کا مکلف بناتا ہے جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے : اللہ کسی کی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔(البقرہ: 286)
اس اصول کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ وعدہ جو نبھایا نہ پجاسکے، سرے سے کرنا ہی دانش مندی نہیں ۔
مسجد کی تعمیر میں وعدہ خلافی کے اثرات محض مالی نقصان تک نہیں رہے بلکہ یہ اجتماعی نظم ، منصوبہ بندی ذہنی سرگرمیوں کے تسلسل کو بھی متاثر کرتی ہے، جب اعلان شدہ عطیات وقت پر موصول نہ ہوں تو تعمیراتی کام تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔ مزدوروں کی اجرت ، سامان کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور بے چیدہ ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ بد اعتمادی اور باہمی انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیےتعاون کرتے وقت خلوص نیّت کے ساتھ حقیقت پسندانہ رویّہ اختیار کیا جائے۔ وعدہ وہی کیا جائےجس کو پورا کیا جاسکے اور اگر کسی عذر کی بنا پر وعدہ ایفا کرنے کے امکانات نہ ہوں تو بروقت اطلاع دینا اور معذرت کرنا بھی اخلاقی دیانت کا تقاضا ہے۔ ائمہ، منتظمین اور ذمہ دارانِ مسجد پر بھی لازم ہے کہ وہ لوگوں کو
” وعدے کی شرعی حیثیت” سے آگاہ کریں اور جذباتی اپیلوں کے بجائےنظم و ضبط کے ساتھ
” چندہ مہمات” چلائیں۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ مسجد کی تعمیر میں اصل اہمیت رقم کی کثرت سے زیادہ صدقِ نیّت اور ایفائے وعدہ کی ہے۔ اگر مسلمان اس ایک اخلاقی اصول کو مضبوطی سے تھام لیں تو نہ صرف مساجد کی تعمیر میں برکت پیدا ہوگی بلکہ معاشرے میں اعتماد ، دیانت اور دینی شعور بھی فروغ پائے گا۔
Leave a Reply