rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
اختتام کو پہنچ گیا اور 2026 شروع ہو گیا ہے۔سال تبدیل ہو گیا ہے, لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم کے حالات بھی بہتری کی طرف بدلیں گے یا نہیں؟پاکستان اس وقت شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ بہتری کے لیے کچھ اقدامات کیے جاتے لیکن حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔مہنگائی اور بھاری ٹیکسز نے عوام کو شدید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔اب تو یہ صورتحال ہو گئی ہے کہ ایک عام آدمی صرف زندہ رہنے کو ہی زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔شدید مشقت کر کے دو وقت کی روٹی کمانا ہی ترقی سمجھی جا رہی ہے۔انسانی خواہشات تو بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن ضروریات بہت کم ہوتی ہیں،اگر ضروریات بھی پوری نہ ہوں تو زندگی بہت ہی دشوار ہو جاتی ہے۔صرف روٹی کمانا ہی زندگی کا مقصد بن جائے تو تعلیم اور دوسری ضرورتیں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ٹیکس لگاتے وقت یہ بھی سوچنا گوارا نہیں کیا جاتا کہ عام آدمی وہ بھاری ٹیکسز کس طرح ادا کرے گا؟سیاسی عدم استحکام نے بھی بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں جو فوری طور پر حل طلب ہیں لیکن ان کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔سیاسی مکالمہ ایک جمہوری یاآزاد معاشرے کا حسن کہلاتا ہے،لیکن بدقسمتی سے یہاں سیاسی مکالمہ بازی ناپید ہے۔اگر کوئی سیاسی مکالمہ بازی کی بھی جائے تو انتہا پسندی واضح نظرآجاتی ہے۔ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے جاتے ہیں،افسوس سےکہناپڑتا ہے کہ اداروں میں عوام کو ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔عوام کو جھوٹی تسلیاں دی جاتی ہیں کہ آپ کے حالات بدلیں گے،لیکن حالات بہتر ہونے کی بجائے بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک پاکستانی صرف مہنگائی کا شکار نہیں بلکہ بے شمار مصائب کا شکار ہو چکا ہے۔عدم میرٹ نے عام پاکستانیوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔کس کس پریشانی کا ذکر کیا جائے،جن کا پاکستانی شکار ہیں۔تعلیم،صحت،پانی،روزگار اور اس جیسےبے شمار مسائل ہیں، جن کا سامنا پاکستانی کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کی پامالی دھڑلے سے کی جا رہی ہے۔رشوت عام ہو چکی ہے۔رشوت اس طرح معاشرے میں رچ بس چکی ہے کہ رشوت کو رشوت ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کو لینے والے کا حق سمجھا جاتا ہے۔سیاست دانوں کو اگر اپنے مفادات سے فرصت ملے تو وہ عام پاکستانی کے بارے میں بھی کچھ سوچیں۔سیاست دان صرف اپنے پیٹ کے بارے میں سوچتے ہیں،ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عام پاکستانی کن مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔دہشت گردی جیسا عفریت بھی پاکستانی قوم کو مسلسل زچ کر رہا ہے۔قانون کی پاسداری نہیں،طاقتور قانون سے بالاتر ہو چکا ہے۔ایک عام آدمی معمولی سی قانون شکنی کی سزا برسوں بھگتتا رہتا ہے لیکن طاقتور بڑے سے بڑے قانون کو توڑ ڈالے تو اس سے پوچھا تک نہیں جاتا۔ان حالات میں پاکستانی قوم کوخودہی بہتری کی طرف سوچنا ہوگا ورنہ ان کے حالات قیامت تک نہیں بدلیں گے۔ان حالات کو قسمت کا لکھا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ جدوجہد سے ان مشکلات پر قابو پانا ہوگا۔اللہ جو کہ غفور الرحیم ہے،اس نے قرآن حکیم میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ”انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے”پاکستانی قوم کو بیدار ہونا ہوگا اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی ورنہ آنے والی نسلیں بھی اس سے بھی بدتر حالات میں جینے پر مجبور ہوں گی۔اب بھی جرات درکار ہے اور یہی جرات پاکستان کو باآسانی مشکلات کی دلدل سے نکال سکتی ہے۔ہم سب کو ایک قوم بننا ہوگا ورنہ حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔اب 2026 شروع ہو چکا ہے،ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے۔اس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جدوجہد کے بغیر مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔
اس وقت سر فہرست مسائل کو سمجھنا ہوگا۔مہنگائی سمیت دیگر مسائل کو بھی توجہ دینی ہوگی،اس لیے ہر پاکستانی اپنی حیثیت کے مطابق جدوجہد کرے۔2025 تک جتنی بھی غلطیاں ہو چکی ہیں ان پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔2026 میں درپیش مسائل کو سمجھنا ہوگا اور ان کو حل بھی کرنا ہوگا۔ہمیں منصوبہ بندی کر کے مسائل حل کرنے ہوں گے۔یہ درست ہے کہ ہم آسانی سے مسائل کو حل نہیں کر سکتے لیکن ابتدا تو کرنی ہوگی۔امید ہے کہ 2026 کے اختتام تک بہت حد تک مسائل پر قابو پا لیا جائے گا اور 2027 کا آغاز بہت ہی بہتر ہوگا۔سیاسی مسائل خطرناک حد تک بگڑے ہوئے ہیں،ان پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
Leave a Reply