رپورٹ ہارون قریشی
ہمارے پیارے نبی کے فرمان کے مطابق شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو ستاروں کے آگے بھی جا سکتا ہے۔ 20 جولائی 1969 کو اپالو گیارہ جیسے ہی چاند پر پہنچا پوری دنیا ترقی کی دوڑ میں لگ گئی۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا مرتھین میں جو کھلاڑی آہستہ آہستہ سپیڈ بڑھاتے ہیں وہ زیادہ تر چمپین بنتے ہیں۔ چائنہ بھی ایسا ہی ملک ہے جو ترقی کی دوڑ میں آہستہ آہستہ دوڑتا رہا جس نے اب تمام دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مشرق وسطی سے آئی ہوئی پروفیشنلز اور صحافیوں کی ٹیم نے چین کے دارالحکومت بیجنگ شہر کے جنوب میں واقع Yizhuang علاقے میں نئی ٹیکنالوجی، بغیر ڈرائیور سے چلنے والی کار کے پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ کیا۔ ٹیم کے ہر ممبر کو گاڑی کا سفر کروایا گیا۔ یقین کریں گاڑی میں بیٹھ کر یہ احساس بالکل نہیں ہوا کہ ہم بغیر ڈرائیور کی کار میں سفر کر رہے ہیں بلکہ یہ گاڑی عام کاروں کی طرح چلتی رہی اور سگنل پر رکتی اور دائیں بائیں جانے کے لئے باقاعدہ اشاروں کا استمال کرتی۔ فرنٹ سیٹ پر ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ ایک آدمی کو سیکورٹی کے لئے بٹھایا گیا تھا، آنے والے وقت میں سیکورٹی سٹاف کو ہٹا لیا جائے گا۔ گاڑی کی چھت پر خصوصی الیکٹرانک آلات نصب کئے گئے ہیں۔ گائیڈ نے گاڑی کے بارے میں بتایا کہ یہ کار سیٹلائٹ کے ساتھ انٹرنیٹ سے منسلک ہے، سامنے، سائیڈ اور رئیر کیمروں اور الیکٹرانک اسکرینوں کی ایک بڑی تعداد سے رابطے میں رہتی ہے، جہاں سے عملہ اس کو چیک کرتا ہے۔ تکنیکی ماہرین نے کہا کہ وہ اس سے بڑی گاڑیوں کو عام کرنے لئے کام کر رہے ہیں، اور اس کام کے ذمہ داروں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ “روبوٹ ٹیکسی” کے ذریعے سفر کی لاگت ایک عام ٹیکسی کے کرائے کے برابر ہے۔ جب کہ انھوں نےبتایا کیا کہ اس قسم کی “اپولو” کاریں انسانی خصوصیات اور اس کی خامیوں پر انحصار کم کرتی ہیں، جب کہ اسے پرائیویٹ کاروں کے طور پر منظور نہیں کیا گیا، جیسے چائنہ کا ٹریفک قانون اجازت نہیں دیتا۔ فالحال یہ کاریں ربوٹ ٹکیسی کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے وضاحت کی کہ اس قسم کی جدید الیکٹرک ٹیکسی ہر عمر کے لیے موزوں ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے، جو گاڑی نہیں چلا سکتے اور ان کا کوئی سہارا بھی نہیں، انہیں گاڑی کو اپنی جگہ تک پہنچنے کے لیے اپنے موبائل فون پر صرف الیکٹرانک ایپلی کیشنز ڈالنا ہوں گی،جس سے گاڑی آپ کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ربوٹ ٹیکسی میں اب تک 4 ملین کے لگ بگ لوگ سفر کر چکیں ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ وہاں “سپر مارکیٹ” کاریں ہیں جو پارکوں اور باغات میں چلتی ہیں اور مشروبات سے بھری ہوئی ہیں، اور کوئی بھی الیکٹرانک ایپلی کیشنز کے ذریعے اپنی مرضی کا آرڈر دے سکتا ہے، اور ایک بار جب وہ پہنچ جائیں تو وہ “ویزا” کارڈز سے ادائیگی کرتا ہے۔ چائنہ تواتر کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: چین میں روبوٹ ٹیکسیاں, ID: 2054
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 2054 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: چین میں روبوٹ ٹیکسیاں, ID: 2054
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply