rki.news
رشتوں کا وزن نہ رہا دلوں کی کتابوں میں
نفع و زیاں ہی لکھا ہے فقط حسابوں میں
جو لوگ درد نبھاتے تھے عمر بھر ہم سے
وہی نظر نہ آئے کبھی عتابوں میں
وفا کا نام لیا بس رسومات کی حد تک
حقیقتیں گم ہو گئیں نصابوں میں
ہر شخص نے خود کو ہی معتبر جانا
کوئی کمی نہ دیکھی دل کے انتخابوں میں
ضمیر بیچ دیے شہر کے امیروں نے
سکون ڈھونڈتے پھرتے ہیں اضطرابوں میں
یہ دورِ حرف ہے، معنی کہیں بکھر سے گئے
صدق نہ رہا سوالوں میں، نہ جوابوں میں
جو ساتھ چلتے تھے سایہ بنے ہر دم
وہی بدل گئے موسم کے انقلابوں میں
وفا کی شمع جلانا بھی جرم ٹھہرا اب
ہوا مخالف کھڑی ہے سبھی محرابوں میں
معین نے یہ لکھا ہے شکستہ لفظوں میں
کہ سچ نہیں رہا شامل کسی نصابوں میں
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply