احمد وکیل علیمی
کتابوں کے میلے کا آیا ہے موسم
کتابیں، کتابیں کا ہر سوُ ہے سرگم
سبھی منتظر تھے یہاں سال بھر سے
کتابیں نہ بِک جائیں، نکلو بھی گھر سے
ہے ہم میں کتابوں سے رغبت کی عادت
خریدوں کتابیں ہوئی ہے سعادت
سبھی اہلِ تعلیم میں کھلبلی ہے
کہ سب تشنگانِ ادب کو خوشی ہے
کتابوں سے ہے آج دنیا یہ روشن
نچھاور کریں کیوں نہ ہم ان پہ تن من
سدا نسلِ نو کو یہ نکتہ بتاؤ
ہمیشہ کتابوں سے رغبت بناؤ
یقیناًیہ ہے نیٹ کا دور صاحب
کتابوں کا ہے پھر بھی اک شور صاحب
خرابہ ہے دل اب کتابوں سے بھائی
تعلق فقط ہے نصابوں سے بھائی
طمانچے سے منہ لال رکھتے وہی ہیں
کتابوں کے رسیا سہی میں یہی ہیں
Leave a Reply