جرمنی نے یوکرین کو اپنے مشہور و معروف ٹینک “ پینتھر 2” دینے کا ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ کیا جرمنی اپنے اسلحے کو بیچ کر امن خرید نا چاہتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک طرف اسلحہ مدد کے نام پر بیچا جائے اور دوسری طرف امن کی خواہش اور اس کا چرچا کیا جائے؟؟
ایس پی ڈی پارٹی کے سربراہ اور اس وقت کے جرمنی کے چانسلر اوولف شولس نے یوکرین اور روس کی جنگ میں یوکرین کی مدد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جرمنی کے مشہور و معروف ٹینک “ پنتھر 2” کو یوکرین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جسے یوکرین کے صدرایک بہترین فیصلے سے تعبیر کررہے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف جرمن عوام میں ایک بے چینی پائی جارہی ہے کہ کیا جرمن حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے؟ کیا یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے ؟
ایک طرف اوولف شولس ٹینک فروخت کررہے ہیں تو دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جرمنی براہ راست جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ کیا ٹینک بھیج کر جرمنی جنگ کا حصہ نہیں بن جائے گا؟
سوال در سوال ہیں جس سے جرمن عوام پریشان نظر آرہے ہیں ۔ برلن کی ایک مشہور خاتون وکیل کا کہنا ہے کہ “ کیا ضروری ہے کہ جرمنی ہر کسی کے معمالے میں اپنی ٹانگ اڑائے؟”
کئی مہینوں سے جرمنی یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے جو آج کل روس کی جنگ سے شدید حملے کی زد میں ہے۔ شروع میں لوگوں نے اس طرف توجہ کم رکھی کہ کون سا سامان برآمد کیا جارہاہے لیکن حال ہی میں جرمنی کے چانسلر کے دفتر نے ہتھیاروں کی ترسیل کی ایک فہرست جاری کی ہے – یہاں یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں اُبھر رہا ہے کہ آخر یوکرین کے لیے یہ جرمن ہتھیار کہاں سے آ رہے ہیں ؟
ماہرین کا خیال ہے کہ یوکرین جرمن ہتھیار ان طریقوں سے حاصل کرسکتا ہے ۔
جرمن فوج کے اسٹاک سے
یوکرین کا جرمن اسلحہ بنانے والی فرم کو براہ راست آرڈر دینا
جرمن حکومت کا “ یورپی امن مشن” کے مشترکہ اکاؤنٹ میں رقم ڈالنا
یورپی یونین کے اس مشترکہ اکاؤنٹ سے ان ہتھیاروں کی قیمت کی ادائیگی کرنا۔
ان مثالوں سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ یہ امداد ہے یا تجارت ؟؟
بہرحال جو بھی طریقہ اپنایا جائے اسلحہ کی ترسیل کے ذریعے امن ایک خواب ہی ہوسکتا ہے ۔ جرمنی ہی کے چانسلر „ ولی برانڈ “ نے کہا تھا کہ “
امن ہی سب کچھ نہیں ہے، لیکن امن کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔”
تشدد کوئی حل نہیں ہے، اور جنگ کو کسی سیاسی آلہ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ امن ہر فرد کے لیے، ایک آزاد معاشرے کے لیے اور ماحولیاتی تحفظ جیسی اقدام کے بارے میں جمہوری بحث کے لیے بغیر کسی خوف کے خوشگوار زندگی کی بنیاد ہے۔ اسی لیے گرین پیس اس بات کی مخالف ہے کہ کسی ملک کو اسلحہ کی ترسیل کی جائے اور پھر امن کا بھاشن بھی دی جائے ۔
لیکن جرمنی میں ہی ایک دوسرے گروپ کا خیال کچھ مختلف بھی ہے ۔
اس وقت جرمنی میں امن پسندی بہت ہی مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ماہرین اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وقت کو سب سے زیادہ مشکل قرار دے رہے ہیں۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ جو لوگ سیاسی طور پر پختہ ذہن رکھتے ہیں وہ روسی جارحیت کے خلاف جنگ کے لیے یوکرین کو ٹینکوں، بندوقوں اور رائفلوں کی فراہمی پر سوال اٹھانے کی غلطی نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جو ایسا کررہا ہے شاید وہ روس کے صدر پوٹن کو نہیں جانتا ہے اور نہ ہی اُسے سمجھتا ہے، یہاں یکجہتی کا فقدان ہے کیونکہ پوٹن ایک غیر دنیاوی خواب دیکھنے والے شخص ہیں
لیکن دوسری طرف سیاست کو ہمیشہ انتباہ، ہچکچاہٹ اور محفوظ آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔خاص طور پر جب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے،کس کی حمایت کی ضرورت ہے، جنگ کے کس فریق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کوئی بھی جمہوری رائے سازی اس طرح کام نہیں کرتی کہ اکثریت اقلیت کو خاموش کر دے۔ جمہوریت میں صحیح راستہ تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اقلیتوں کی رائے کو واضح طور پر سنا جائےاور انہیں آواز اٹھانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ دیکھنا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے کہ ان اقدام کے مستقبل میں کیا اثرات ہوں گے۔ کہیں اسلحے کی ترسیل یورپ کو پھر کسی عالمی جنگ میں تو نہیں دھکیلنا ہے ؟؟
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: کیاجرمنی کا یوکرین کو اسلحے کی فراہمی ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے ؟؟, ID: 210
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 210 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: کیاجرمنی کا یوکرین کو اسلحے کی فراہمی ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے ؟؟, ID: 210
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply