Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

“باپ… خاموش چراغ”

· June 18, 2025
“باپ… خاموش چراغ”

rki.news

ازقلم:عائشہ ابراهيم

باپ وہ لفظ نہیں اک راز ہے
جو ہر موسم میں میرے ساتھ ہے
نہ آنکھوں میں پانی نہ لہجے میں درد
پھر بھی وہ ہارا پھر بھی وہ سرد
دیوار سا چھت سا چپ چاپ سا
اک سایہ جو جلتا رہا بے صدا
نہ صلہ مانگا نہ شکوہ کیا
ہر خواب ہمارا اس نے جیا
ہم ہنس دیے تو وہ رو نہ سکا
ہم رو دیے تو وہ سو نہ سکا
اس کے کاندھوں پر دنیا رکھی
ہم نے کندھوں پر ذمہ داری لکھی؟
باپ وہ جو مسجد کی پچھلی صفوں میں
دعاؤں میں سب سے پیچھے کھڑا رہا
یا رب میرے بابا کا چہرہ تُو ہمیشہ روشن رکھ
سایہ اس کا میرے سر پر عمر بھر تُو قائم رکھ۔
تھک تھک کر جو راتوں میں میرے خواب سجاتا ہے
اس کے دل کے گوشوں میں سکھ کی روشنی قائم رکھ
جس نے خود کے حصے کا رزق بھی مجھے دے ڈالا
اس کی خالی ہتھیلی کو رحمتوں سے بھر ڈال
جن آنکھوں میں نیند نہیں فکرِ اولاد رہتی ہے
ان آنکھوں میں سکون کی نیند بھر کے رکھ
باپ جو ہے چھاؤں کی طرح دھوپ میں بھی سایہ ہے
اس کی ہر قدم پر تُواپنی رحمت کا سایا ہے
میرے بابا پیارے بابا

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.