شاعر جمیل حیات اٹک
اس کے بارے کبھی نہیں سوچا
ہے کٹھن زندگی نہیں سوچا
پیار جس کو سمجھتا تھا لوگو
ہو گی وہ دل لگی نہیں سوچا
بعد میرے تِرا بنے گا کیا؟
اس حوالے سے بھی نہیں سوچا
باقی سوچا ہے سب مگر جو بھی
سوچنا تھا وہی نہیں سوچا
عشق میں کود بیٹھا ہوں بَن میں
تو بھی ہے تشنگی نہیں سوچا
ہم نے آخر جمیل مرنا ہے
باقی سوچا یہی نہیں سوچا




