Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· April 14, 2024

کارگر مکر کا غازہ نہیں ہونے والا
سُرخ روٗ جھوٹ کا چہرہ نہیں ہونے والا

جس کو معلوم ہے دنیا کی حقیقت اے دوست
وہ کبھی طالبِ دنیا نہیں ہونے والا

ایڑیاں اپنی رگڑتے رہو تشنہ کامو !
یوں ہی جاری کوئی چشمہ نہیں ہونے والا

دل میں گر شوقِ سفر جانبِ ادراک نہیں
جھیل رہ جائے گا دریا نہیں ہونے والا

دل تو کہتا ہے کہ ہم لوگ ملیں گے اِک دن
عقل کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہونے والا

اب ہٹا دو رُخِ تاباں سے گھنیری زلفیں
’’اِن چراغوں سے اُجالا نہیں ہونے والا‘‘

کس کو ہے علم بتائے جو یقیں سے راغبؔ
ہونے والا ہے کیا اور کیا نہیں ہونے والا

افتخار راغبؔ
دوحہ قطر
کتاب: لفظوں میں احساس

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.