Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 25, 2025

rki.news

دلِ حزیں کو مرے اور اضطراب نہ دے
اسیرِ فصلِ خزاں ہوں مجھے گلاب نہ دے

یہ بات اور ہے کوئی حسین خواب نہ دے
مگر یہ جاگتے رہنے کا تو عذاب نہ دے

حدِ کمال سے آگے ہے تشنگی میری
بنامِ آب مجھے اب کوئی سراب نہ دے

یہ جانتے ہی نہیں کچھ وفا کے بارے میں
خدا کا واسطہ دل کی انہیں کتاب نہ دے

مرا چراغ ہی کافی ہے روشنی کیلئے
تو اپنے پاس ہی رکھ اپنے آفتاب نہ دے

مجھے پتہ ہے ترے دل کا انتخاب ہوں میں
بھلے ان آنکھوں کو تو اذنِ انتخاب نہ دے

حساب ہم کو جلی بستیوں کا لینا ہے
حویلیوں کے اجالالوں کا تو حساب نہ دے

مجھے پتہ ہے مری بات کا جواب نہیں
“مرے سوال ہی سن لے مجھے جواب نہ دے”

ترا سخن ہو مبارک تجھے میاں اشہر
وہ شاعری ہی بھلا کیا جو انقلاب نہ دے

نوشاد اشہر اعظمی

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.