Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 31, 2025
غزل

rki.news

دُھن کوئی اچھی ہمیں تم تو سُناتے ہی نہیں
دُھن تو دُھن سُر میں کوٸی گانا بھی گاتے ہی نہیں

بے سُری موسیقی بھاۓ نہ مِرے دل کو کبھی
ساز جو دل کو چھوئے وہ تو بجاتے ہی نہیں

پان اور چھالیہ کھانے کی ہے عادت ایسی
تم کسی اور کو اِک پان تھماتے ہی نہیں

کتنی مہنگائی زمانے میں ہے پھیلی ہوئی پر
مکھیاں محض اُڑاتے ہو کماتے ہی نہیں

کتنے کنجوس ہو ہُشیاری سکھانے میں بھی تم
کیوں کسی دوست کو عیّاری سِکھاتے ہی نہیں

تجھ کو دیکھا ہے بہت مدّتوں کے بعد کہیں
ہنستے ہو ویسے ہی دانتوں کو چُھپاتے ہی نہیں

شاعری کی ہے ثمر نے بڑی محنت سے ہی عمدہ
دوست ہر شعر پہ کیوں تالی بجاتے ہی نہیں

ثمرین ندیم ثمر
31-07-25

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.