rki.news
یاد رکھنا تم میرے کچھ مہر کو
بھولنا مت مجھ پہ ڈھائے قہر کو
ہے سلام ہر وقت میرا فخر سے
نام دینے والے میرے شہر کو
کل پیا تھا حق پہ جو سقراط نے
آج ہے میں نے پیا اس زہر کو
عاشقی فرہاد پر ہے ختم بس
کس نے کھودا دودھ کی پھر نہر کو
اب بھی تم کو یاد کرتی ہوں بہت
کیوں دباوں دل میں اٹھتی لہر کو
راہ تکتی تھی تمہاری میں کبھی
روز ہی تپتی ہوئ دوپہر کو
مجھ پہ خانم رب کی رحمت ہے بڑی
بس خدا قائم رکھے اس مہر کو
فریدہ خانم ، لاہور ، پاکستان ۔




