rki.news
اہل منصب کو سوچنا ہو گا
جبر کا ہاتھ روکنا…. ہو گا
ظلم تو حد سے بڑھتا جاتا ہے
شہر ظلمت کو چھوڑنا ہو گا
ٹوٹتے جا رہے ہیں جو رشتے
انھیں الفت سے جوڑنا ہو گا
ہم بھی گزریں گے شہر سے ترے
ہاتھ میں کاسہ دعا ہو گا
جتنے بھی بت ہیں شہر میں پونم
انھیں ہاتھوں سے توڑنا ہو گا
پونم نورین




