rki.news
یہاں پر آبرو ریزی ہوئی ہے
لہو سے اوڑھنی بھیگی ہوئی ہے
زباں اِنصاف کی گونگی۔ ہوئی ہے
رہائی آج قاتل کی ہوئی ہے
بہت ہی گرم ہے بازار نفرت
عداوت کی وبا پھیلی ہوئی ہے
نہ جئیے گی نہ جینے دیگی سب کو
یہ دنیا نے قسم کھآئی ہوئی ہے
کیا تھا جس کی رکھوالی کا وعدہ
وہی چادر ابھی میلی ہوئی ہے
مکان دل میں جب سے آپ آئے
عجب سی روشنی پھیلی ہوئی ہے
خوشی منصور ہے گھر میں کسی کے
خُدا کے فضل سے بیٹی ہوئی ہے
منصور اعظمی دوحہ قطر




