محمد نواز ساجد قریشی
موضع حسوکے
پنجاب
میں رہتا ہوں انسانوں میں
وہ رہتا ہے حیوانوں میں
جب بھی اس کو میت ملے گا
ہم بھی ہوں بیگانوں میں
عشق میں مرنے والا جذبہ
ہم نے دیکھا پروانوں میں
پاک پوتر سے لوگوں نے
پاپ چھپائے تہہ خانوں میں
ارمانوں کے پھول سجائے
میرے یار گلدانوں میں
چاہت کی اک بوند ہی دے دو
آ گ لگی ہے ارمانوں میں
کھیل نہیں ہے سنجوگ ہے ساجد
جوڑے بنتے اسمانوں میں



