خوشبو کا ایک جھونکا جو پیکر میں آگیا
دستک دئیے بغیر مرے گھر میں آگیا
نیکی کے راستے پہ ہوئی جب میں گامزن
مجھ کو سکونِ قلب یوں دم بھر میں آگیا
دُر پائے شاعری کی رفاقت ہوئی نصیب
میرا وجود گہرے سمندر میں آگیا
ذرّے میں آفتاب جھلکتا ہے جا بجا
مہتاب آج کیوں ترے چکر میں آگیا
شامل ہوا ہے یوں سفرِ زندگی میں تُو
دل میرا آج سینئہ دلبر میں آگیا
اردو زبان کی ہے یہ تاثیر دیکھئے
سیلاب روشنی کا ہر اِک گھر میں آ گیا۔۔۔
ثمرین ندیم ثمر



