rki.news
جب
ریت کی پیاسی پیشانی پر
دھوپ انگاروں کی طرح برس رہی تھی،
اور صحرا
اپنے بے کراں سینے میں
صدیوں کی خاموش پیاس سمیٹے سو رہا تھا،
اِک ننھا سا بچہ
تشنہ لب،
ہونٹوں پہ سوکھتی دعا لیے
بلک اُٹھا۔
تب
رحمتِ رب
ماں کی ممتا کا پیرہن پہن کر
زمین پر اُتری،
اور ہاجرہؑ
اپنے لختِ جگر کی پیاس لیے
صفا و مروہ کے درمیان
یوں دوڑیں
جیسے دعا
امید کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔
کبھی صفا نے اُن کے قدم چومے،
کبھی مروہ نے
اُن کی بے قراری کو سجدہ کیا۔
ماں کی سانسوں میں اضطراب تھا،
آنکھوں میں التجا کا سمندر،
اور دل میں
یقین کا چراغ روشن تھا۔
پھر
ننھے اسماعیلؑ کی ایڑیوں نے
ریت کے سینے پر
صبر کی آخری ضرب لگائی،
تو آسمان جھک گیا،
جبریلؑ اُترے،
اور صحرا کی خشک رگوں میں
زمزم پھوٹ پڑا۔
وہ پانی نہیں تھا فقط
رحمت کا بہتا ہوا نور تھا،
پیاس کے لبوں پر
خدا کی مسکراہٹ تھا۔
تب سے
صفا و مروہ
فخر سے سر اُٹھائے کھڑے ہیں،
کہ اُن کے درمیان
ایک ماں کی تڑپ
عبادت بن گئی۔
اور
زمزم آج بھی
ہر پیاسے دل سے کہتا ہے:
“جہاں اخلاص کی ایڑیاں
زمین پر پڑتی ہیں،
وہیں رحمت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔”
ثمرین ندیم ثمر
Leave a Reply