Today ePaper
Rahbar e Kisan International

“ابلاغ عامہ میں ما بعد از حقائق”

International - بین الاقوامی , Snippets , / Sunday, January 22nd, 2023

شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میڈیا کانفرنس ۲۰۲۲)
مقالہ نگار : ڈاکٹرعشرت معین

خواتین و حضرات ! آج ہم جس دور میں جدید ٹکنالوجی کے حوالے سے زندگی کے تمام معاملات میں جہاں آسانیاں محسوس کر رہے ہیں وہیں اس 21ویں صدی کے سماجی اور سیاسی منظرنامے میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پھیلے ہوئے میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا میں “ سچ کی تلاش یا خبر کی سچائی کو ایک انوکھا چیلنج سمجھ کر برتنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
خاص طور پر سوشل میڈیا کا ذکر میں یہاں اس لیے کر رہی ہوں کہ وہاں پر جھوٹی اور بے بنیاد خبریں تیزی سے پھیلنے کے ساتھ ساتھ خبر کی اپنی اہمیت کو بھی متاثر کر رہی ہیں اور الیکٹرونک میڈیا جو موثر ذریعہ ابلاغ مانا جاتا ہے وہ بھی جدید ٹکنالوجی کی بدولت فوٹو شاپ یا دیگر ایپ جیسی ٹکنیک کے زریعے خرد برد کرکے سچ کی اہمیت کم کرتا ہوا اور اسےکمزور بناتا ہوا نظر آرہا ہے۔ آپ نے گذشتہ روز اس حوالے بہت گفتگو سماعت فرمائی ہے جس میں مجموعی طور پر ہمارے مفکرین اور دانشوروں نے اپنی گفتگو اور مقالے میں بتایا ہے کہ فیس بک کی نیوز فیڈز اور ٹوئٹر نے روایتی میڈیا کے طرزِ معیار میں ایک بھونچال اور عوام کی ترجیحات میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے، اسی ہنگامہ خیز صورتحال میں لوگ ‘جھوٹی خبر، سچی خبر اور آراء پر مبنی خبر’ کے مابین فرق تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود میڈیا بھی بعض اوقات اس فرق سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔
اس صورتحال سے انفارمیشن کے موجودہ دور میں کسی شخص یا ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے جوہری ہتھیار یا عسکری قوت کی ضرورت نہیں بلکہ اب تو صرف سوشل میڈیا پر ’جعلی خبریں ہی اسٹاک ایکسچینج کو گھٹنے ٹیکنے، مملکت کے سربراہان یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کو ہاتھ جوڑ کر وضاحتیں دینے پر مجبور کرسکتی ہیں۔
ان جھوٹی خبروں سے پریشان ہوکر عالمی سطح پر کئی اہم بین القوامی کمپنیوں نے فیس بک اور گوگل کو بھی خبردار کردیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی سائٹ پر جعلی خبروں کے بہاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے تو وہ آن لائن اشتہارات کی مد میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری روک دیں گی۔ اس حوالے سے سابق امریکی صدر ٹرمپ کو بھی کل یاد کیا گیا کہ جن کے دور حکومت میں اُن کی جانب سے گمراہ کن اور جھوٹے بیانات اور دعووں کا ایک سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا تھا اور معروف یونی لیور کمپنی نے دو ارب ڈالر کی اشتہاروں کی پابندی کا عندیہ دیا تھا۔
ان دو دہائیوں میں سوشل میڈیا کے زریعے جتنی زیادہ اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے سنگین جرائم کا سلسلہ بڑھا ہے، اس سے قبل یہ سلسلہ اتنا مضبوط نہیں تھا۔ جب سے میڈیا آزاد ہوا اور سوشل میڈیا عام لوگوں کا ذریعہ اظہار بن گیا تب سے نہ صرف صحافت کے بنیادی اصول بدل گئے ہیں بلکہ عوام اور اداروں میں میڈیا کا اعتبار بھی روز بروز مشکوک بنتا جا رہا ہے۔
یہ بات ماننی ہوگی کہ سوشل نیٹ ورک نے مختلف ممالک اور معاشروں کے درمیان فاصلے تو مٹا دیئے ہیں مگر اس نے بعض ملکوں اور معاشروں کو غیرمستحکم بھی کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو انفارمیشن کے بہتے ہوئے کئی دریاؤں کو بغیر کسی روک ٹوک اور پابندی کے سرحد پھلانگتے ہوئے ایک دوسرے سے جوڑا ہے وہیں اس نے معلومات کے اس بہاؤ کو ایک سر پھرے سیلاب کی شکل بھی دے دی ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ سرحدی پابندیوں کے حصار کو توڑتا ہوا یہ دریاؤں کا جال جہاں دنیا کو ایک گلوبل ولیج کی شکل دے گیا ہے وہیں اس نے اس ویلج میں توڑ پھوڑ کے عمل کو بھی اسی طرح بڑھا دیاہے کہ جس طرح ایک سیلابی ریلہ توڑ پھوڑ اور بربادی کا باعث ہوتا ہے۔ یہاں پہ قصور دریاؤں کا سرحدی پابندیوں کو توڑتے ہوئے یکجا ہونا نہیں ہے بلکہ اس معلومات کے سیلابی ریلے میں صاف اور گندے پانی کی ملاوٹ ہے جو آج کے سماجی ابلاغ عامہ کو بدبو دار بنا رہا ہے۔ اس حوالے سے عوام الناس کو بیدار ہونا اور غلط اور درست معلومات کے درمیان فرق معلوم کرنا بہت ضروری ہے۔جس کے لیے اہم ہے کہ ابلاغی ادارے عوام میں شعور بڑھانے کی کوشش پر توجہ دیں اور سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس معلومات کے ریلے کو اس خزانے کو اپنانے والوں کو ذہنی بصیرت اور شعور کی بالیدگی اجاگر کرنے کا موقع دیں اور اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ یاد رہے کہ تیز رفتاری سے بڑھتا ہوا کوئی بھی سیلابی ریلہ بنیادی طور پر تباہی کا ہی سبب بنتا ہے ۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر اب جعلی خبروں اور افواہوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں لیکن یورپ امریکہ اور کئی ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں اب ایسا نظام بھی بنایا جانے لگا ہے جو جھوٹی خبروں کا پتہ لگا سکے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہی عالمی سطح پر مشکوک لوگوں کے گروہ یا انفرادی سطح پر مجرموں کے جرائم کا پتہ لگاسکے اور انہیں مستقل بنیاد پر سوشل میڈیا سے الگ کر سکے۔ اس حوالے سے دنیا کے تقریباً بیس بڑے ممالک نے ہزاروں افراد کو اپنے یہاں پابند سلاسل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ لیکن وہ اپنے مستحکم ارادوں اور ان کی بہترین حکمت عملی کے باوجود افواہوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے خود کو بچا نہیں پارہے ہیں اور مستقل حالت دفاع میں ہیں ۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر رچرڈ بریڈفورڈ کہتے ہیں کہ ’شاید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو محفوظ بنانے کے لیے تعلیم یا تجربے کا علم ہی کافی نہیں ہے بلکہ کنڑول کرنے کا سخت نظام بھی ہونا چاہیے ورنہ یہ بدمست ہاتھی کی طرح سب کو کچل کے رکھ دے گا۔‘
کل کے ایک سیشن میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ میڈیا کی آزادی کا اس میں کیا کردار ہے؟ کیا پاکستان کا میڈیا آزادی صحافت کا علمبردار ہے ؟ اس ضمن میں گفتگو کسی اور سمت نہ نکل جائے اس لیے میں مجموعی طور پر
جنوب ایشیائی ممالک میں خاص طور پر پاکستان و ہندوستان کی بات کرونگی کہ میں اگر یہاں اردو خبر اور اس کی گردش پر نظر ڈالوں تو یہی کہونگی کہ جنوبی ایشیا کے ان خطوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے جب مختلف افواہیں گردش میں نہیں ہوتیں ہوں یا عوام کا ابتدائی ردعمل جاننے کے لیے جان بوجھ کر افواہیں پھیلائی نہ جاتی ہوں۔ اب ان افواہوں کا مقصد عوام میں بے چینی یا عدم اطمنان پھیلانا ہوتا ہے یا عوام کو خرافات کا یہ کھلونا دے کر مصروف رکھنا ہوتا ہے یہ تو ملک کی سیاسی قیادت اور حکمران طبقہ بہتر جانتا ہوگا لیکن اس کے جو سنگین نتائج سامنے آرہے ہیں جس طرح عوام کے فکری رویے میں ایک افرا تفری کی صورتحال پیدا کر رہے ہیں اور ذہنی و سماجی طور پر معاشرے کی بیمار صورتحال سامنے آرہی ہے وہ غور طلب اور تشویشناک ہے اور آپ سب جانتے ہی ہیں کہ ایک بیمار ذہن معاشرہ کبھی بھی ترقی یا انسانیت پسندی کی جانب راغب نہیں ہوتا اور ملک کی سالمیت و استحکام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بنا رہتا ہے۔
جھوٹی اور سچی خبر کے اندر پوشیدہ انسانی جذبات خبر کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ تصور کیے جاتے ہیں، مثلاً جھوٹی خبر میں خوف، حیرانی اور نفرت جبکہ سچی خبر میں عمومی طور پر افسردگی، خوشی، پیش گوئی اور اعتماد کے پہلو ہوتے ہیں۔ سچی خبر کے پہلو ہمیں اکثر و بیشتر سطحی محسوس ہوتے ہیں اور پُرکشش نہیں لگتے، لہٰذا ہماری زیادہ دلچسپی بھی حاصل نہیں کرپاتے۔
واقعات کے بہاؤ اور ترتیب میں جھوٹی خبر کے مصدقہ کہلانے اور پھیلنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔
امریکی محقق جےسن ہارسن نے میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی خبروں کو ’افواہ بم‘ سے تعبیر کیا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ ان افواہوں کی حقیقت تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے مگر اس کا اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ یہ ایک منٹ میں دنیا کو تہہ و بالا کرسکتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فیک نیوز یا جھوٹی خبر معاشرے کے استحکام اور عوام کی ذہنی صحت لیے اتنی مضر ہے تو وہ کس طرح پیدا ہوکر اپنے پنجے معاشرے میں گاڑ لیتی ہے
اس ضمن میں محققین کے نزدیک مندرجہ ذیل دو اصلاحات کافی اہمیت کی حامل ہیں۔
1۔ Misinformation (غلط معلومات) یعنی ایسی معلومات جس میں تھوڑا سچ اور تھوڑا جھوٹ شامل ہو۔
2۔ Disinformation (غلط اطلاع) یعنی ایسی اطلاع جو قطعی طور پر اپنا وجود نہیں رکھتی اور خالصتاً کسی سے منسوب کرکے گھڑی گئی ہو۔
ماہرین ذرائع ابلاغ متفق ہیں کہ بیشتر جھوٹی خبریں غلط معلومات (Misinformation) پر مبنی ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے بھی کل بھرپور گفتگو ہوئی ہے کہ غلط معلومات اور غلط اطلاع نے ابلاغ عامہ پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں اور معاشرے میں خبر کے حوالے سے میڈیا پر کیوں عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔
جھوٹی خبر یا جعلی خبروں کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ’عدم اعتماد‘ ہے اور اسی کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے خبروں میں ایسی بات کہی یا افواہ اُڑائی جاتی ہے جو غیر معمولی طور پر سماج سے توجہ حاصل کرلیتی ہے۔اس حوالے سے ایسی متعدد تحقیق موجود ہیں جن میں یہ ثابت ہوا کہ کبھی کبھی میڈیا اپنے مالی اور نظریاتی مفاد کی خاطر حالات اور واقعات کو توڑ مروڑ کر اپنے کسی ‘خاص نکتہ نظر یا ’زاویے‘ کے تحت پیش کیا ہے۔ جب میڈیا نے فرائض اور ضابطہ اخلاق سے ہٹنا شروع کیا تو اس کے خلاف منفی رائے عامہ نے بھی بتدریج جنم لینا شروع کردیا۔ جب سے سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کی ایک اضافی صنف بن کر ابھرا ہے جہاں ہر شخص آزادانہ طور پر خبر سازی سے نشریات تک خود مختارہے،اور آزادانہ طور پر اپنے اور دوسرے کے نظریات، طرزِ معاشرت، سوچ اور مسائل پر بات کرکے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی بات، تصویر اور ویڈیو ہمیشہ موجود رہتی ہے چنانچہ اس کا پھیلاؤ بھی مسلسل جاری رہتا ہے۔
جب لوگوں کو اپنے مسائل کا حل روایتی میڈیا (ٹیلی ویژن، اخبار، ریڈیو) کے بجائے سوشل میڈیا میں نظر آنے لگا تو وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
جب روایتی میڈیا عوام کی نظروں میں عدم اعتماد کا شکار ہوا تب جعلی خبروں کے ذریعے ’خاص نوعیت کے اہداف‘ حاصل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک ملک دوسرے کے خلاف اقتصادی سائبر کرائم میں مصروف ہوگیا، ایک شخص ذاتی عداوت کے تحت دوسرے شخص کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی باتیں سوشل میڈیا پر پھیلانے لگا۔
جب تک متاثرہ شخص یا ادارہ اپنی وضاحتیں پیش کرتا ہے، تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، شک و شبہہ کے سائے گہرے ہوجاتے ہیں اور کردار پر سیاہی کا معمولی سا دھبہ بھی بڑا لگنے لگتا ہے۔
ایسے جعلی خبروں کے طوفان کو روکنے یا کم از کم اس کے زور کو توڑنے کے لیے جرمنی میں NetzDG نامی قانون پاس کیا گیا، جس کے تحت سوشل میڈیا کو جعلی خبریں اور نفرت آمیز مواد کو ہٹانے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی جاتی ہے اور ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اس پر جز وقتی یا مسلسل پابندی عائد کردی جاتی ہے ۔
اسی طرح یورپ میں اٹلی میں بھی اس حوالے سے قانون سازی موجود ہے جس پر سختی سے کام ہورہا ہے ۔ یورپی یونین کی توجہ اس بات پر ہے کہ یورپ کے تمام ممالک میں مساوی طور پر قوانین کا نفاذ کیا جائے اور ان کا اطلاق ممکن بنایا جاسکے لیکن وہ اس کے باوجود وہ اس گھمبیر صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہیں۔ اس حوالے سے جرمنی کے ایک مستند اخبار دی اشپیگل کی خبر کے مطابق میٹا یورپ بھر میں اپنی خدمات کو بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تیکنیک کے دیوتا” میٹا” کا یورپ بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور انسٹاگرام کو بند کرنے کا ارادہ یقینی طور پر مقامی ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشننز کے تحت ہے۔
یورپین ڈیٹا کے تحفظ کے ضوابط جرمنی اور یورپی یونین میں ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ معیار امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے لیے کافی عرصے سے موزوں نہیں ہے۔ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جاری کردہ ایک سالانہ رپورٹ یہ ظاہر کررہی ہے کہ میٹا کمپنی یورپ میں اپنی بعض خدمات کو بند کرنے پر سنجیدگی غور کر رہا ہے۔
اس رپورٹ میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ کہا گیا ہے کہ “ہم ان ممالک اور خطوں کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی، پروسیسنگ اور انہیں وصول کرنے سے قاصر ہیں ہمیں اپنی مصنوعات اور تبادلے کی خدمات کے درمیان ڈیٹا بھیجنے سے روکا جاتا ہے، تو یہ ہماری سروس پر ایک منفی اثر ڈال کررہا ہے اور اس طرح ہماری خدمات فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت مالی طور پر بری طرح متاثر ہورہی ہے۔” اس کے ساتھ ہی جعلی خبروں کی ترسیل و تبادلہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے مارچ دوہزار اٹھارہ میں اینٹی فیک نیوز بل پاس کیا تھا جس کے تحت جعلی خبریں پھیلانے والے مجرم کے لیے 10 سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔ ہمسایہ ملک چین میں حکومتی ادارے سوشل میڈیا کے مواد کا ہر لمحہ جائزہ لیتے ہیں، وہاں جعلی خبر پھیلانے والوں کو 3 برس کی قید کا قانون موجود ہے، اس کے
چین کی عسکری قیادت نے فوج کے خلاف ’جعلی خبر‘ اور ’غلط بیانی‘ کی روک تھام کے لیے آن لائن سروس بھی شروع کی ہے۔
لیکن دنیا کے کئی ممالک میں جعلی خبروں کے خلاف قانون سازی کی بھی صورتحال کچھ خاص مستحکم نہیں دکھائی دے رہی اب صرف ہر طرف یہی سوال گونج رہا ہے کہ جعلی خبروں سے کیسے بچا جائے اور اپنے تئیں وہ کیا حکمت عملی اپنائی جائے کہ خبر کی تشہیر اور اس کے مصدقہ ہونے کا ثبوت ساتھ رہے۔
خبر کی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ
ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر سنجیدہ مگر قدرے حیران کردینے والی خبر پڑھنے کے بعد اس کی صداقت کے لیے دیگر ذرائع پر جاکر خبر کا موازنہ ضرور کیا جائے۔
اگر سوشل میڈیا پر اخبار کا تراشہ بھی پیش کیا گیا ہے تو اس بات کی جانچ کی جائے کہ یہ کسی ایسے سافٹ ویئر کا مرہون منت تو نہیں ہے کہ جن کی مدد سے بڑی آسانی سے خبر کا متن اور اخبار کی ’لوح‘ لگا کر جعلی خبر بنائی جاسکتی ہے۔ مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ اور نیوز ویب سائٹس کی بھی جانچ پڑتال کی جائے ہے۔
ہر مشہور ویب سائٹ پر نشر ہونے والی معلومات ہمیشہ درست نہیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ویب سائٹ کی پیش کردہ خبر کو آگے بھیجتے ہوئے تمام حوالہ جات کا ذکر بھی پیش کیا جائے۔
ان دنوں ملتے جلتے ڈومین کے ناموں کی مدد سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جارہی ہے جس پر جعلی خبریں یا معلومات فراہم کرنے کا چلن پورے عروج پر ہے۔ قابلِ اعتماد ڈومین کے تحت اصل و جعلی کی مماثلت کو مد نظر رکھا جائے۔
خیال رہے کہ خبر ویب سائٹ یا اخبار میں شائع ہونے سے پہلے متعدد مراحل سے گزرتی ہے جس میں تحریری انداز، الفاظ کی درستگی اور معروضیت کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اکثر ایسا ہوا ہے کہ بیشتر جعلی یا مبالغہ آرائی پر مشتمل خبریں پرانی ہوتی ہے اور انہیں نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جھوٹی خبروں سے کیسے بچا جائے
صحافیوں کے سامنے آج ایک بہت بڑا چیلنج موجود ہے۔ پہلے جھوٹ کے انبار میں سے سچ کھود نکالنا ہماری ذمہ داری تھی، آج معلومات کے بے انتہا پھیلاؤ کی وجہ سے یہ خبریں پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دسترس میں موجود ہزاروں ذرائع سے اُس خبر کی تلاش کرے جو اُس کے نزدیک سچی ہے، اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔
معلومات کے گیٹ کیپر کے طور پر روایتی میڈیا کی اہمیت اب بھی واضح ہے۔ مگر دوسری تمام صورتوں میں یہ صورتحال بہت خراب ہے اور اس صورتحال کا کچھ الزام صحافی برادری کے سر پر بھی جاتا ہے۔ ہم مسلسل اس بات کو تسلیم کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ حقیقت کی صورت گری میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے،
جرمنی کی تقریباً نصف آبادی انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہے جبکہ کئی لوگ عمر اور جنس کے ساتھ ساتھ جرمن زبان سے عدم واقفیت کی بنا پر انٹرنیٹ کا آزادانہ استعمال کرنے سے قاصر ہیں جب کہ وہاں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے ۔ جب کے اس کے برعکس پاکستان میں انٹرنیٹ آبادی کے صرف 15 سے 20 فیصد کو دستیاب ہے لیکن اس کے باوجود یہاں فیک نیوز کا پھیلاؤ کئی گنا زیادہ ہے۔
اس ضمن میں آن لائن ‘مواد’ کے قواعد کو سیکھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا صارف کی ذمہ داری ہے۔
انٹرنیٹ کے حوالے سے جرمنی میں صحافیوں کی تربیت کا گاہے گاہے انتظام جاری رہتا ہے لیکن پاکستانی یا اردو میڈیا کے نمائندگان صحافی برادری اس معاملے چند قدم پیچھے ہیں۔جس وجہ ایک بار پھر جرمن زبان اور صحافتی قوائد و ضوابط سے نابلد ہونا ہے ۔ اس حوالے سے وہ خبر کی جلد از جلد ترسیل پر خبر کی شفافیت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں اور افسوس کہ وہاں سے آنے والی براہ راست اردو خبروں کی جانچ کے لیے کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ سچ سے آگے کی دنیا بتاتا ہے۔ کوئی بھی صارف کم خرچ میں جھوٹی خبر بنا کر اسے اس رفتار اور اس سطح پر پھیلا سکتا ہے جو کہ روایتی میڈیا کی پیدا کردہ خبروں کے برابر یا پھر اُس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، اور آن لائن دنیا کی وسعت اور حجم دیکھتے ہوئے جھوٹی خبروں پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہے۔
پاکستان میں بجائے اِس کے کہ ہم انٹرنیٹ کو ‘مزید جمہوری’ ہوتے دیکھتے، ہم نے ریاست کی طاقت میں سینسرشپ، نگرانی، خبروں پر کنٹرول اور جھوٹ کے پھیلاؤ کی صورت میں اضافہ ہوتے دیکھا ہے، تاکہ ’اسٹیٹس کو‘ کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ مسئلہ اب عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ بے تحاشہ جھوٹی خبروں کی موجودگی اور دھوکے دہی کے نتائج میں اضافہ ہونے کی وجہ سے عوام اُنہی ذرائع کی طرف واپس لوٹیں گے جن پر وہ اعتماد کرسکیں۔
اس حوالے سے اہم ضروری ہے کہ میڈیا گروپس اور صحافی برادری انٹرنیٹ کو پوری طرح اپنائیں آن لائن اسپیس میں اپنے کام کو پورے اعتماد کے ساتھ پیش کریں اور بارہا تصدیق کے بغیر آگے بڑھانے سےگریز کریں۔
اس کے آگے ہمیں صرف وہی کرتے رہنا چاہیے جو ہم کرتے رہے ہیں۔ سچائی کو سامنے لانا، چاہے وہ کتنی بھی غیر مقبول یا پریشان کن کیوں نہ ہو۔ جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا جو یہ دور گزر رہا ہے وہ زرائع ابلاغ اور اس سے متعلق ہر فرد کا اس کے سنگین ہونے کا شعور بیدار کر چکا ہے اس لیے اس دور کو گزر جانے دیں۔ امید ہے کہ یہ مرحلہ زیادہ طویل نہیں ہوگا۔

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: “ابلاغ عامہ میں ما بعد از حقائق”, ID: 141

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 141
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: “ابلاغ عامہ میں ما بعد از حقائق”, ID: 141

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International