Today ePaper
Rahbar e Kisan International

جرمنی میں افغان شہریوں کا پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ، پرچم ا تار لیا

Latest - تازہ ترین , / Sunday, July 21st, 2024

فرینکفرٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں افغان شہریوں کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ اور پاکستانی پرچم اتارنے کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا۔پاکستانی سفارتی حکام نے فرینکفرٹ میں پیش آئے افسوسناک واقعے پر(صفحہ نمبر 3 بقیہ نمبر 10)
جرمنی کی وزارت خارجہ سے احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان شہریوں نے فرینکفرٹ میں احتجاج کے دوران پاکستانی قونصل خانے پر دھاوا بولا، پتھراؤ کیا اور پاکستانی پرچم بھی اتارا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، رپورٹس کے مطابق افغان باشندوں نے پاکستانی پرچم جلانے کی کوشش بھی کی۔پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سفارتی تنصیبات کی سکیورٹی کی ذمہ داری جرمن حکومت کی ہے، اس معاملے پر بین الاقوامی برادری میں بھی سفارتی تنصیبات کی سکیورٹی کے معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔فرینکفرٹ میں جرمنی کے حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتی حکام کو مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے جرمن حکام نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: جرمنی میں افغان شہریوں کا پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ، پرچم ا تار لیا, ID: 8583

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 8583
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: جرمنی میں افغان شہریوں کا پاکستانی قونصل خانے پر پتھراؤ، پرچم ا تار لیا, ID: 8583

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International