جب بھی ملتے ہو مجھے خاص بنا دیتے ہو
مجھ میں چاہت کے حسیں پھول کھلا دیتے ہو
سوجھتی کیا ہے تمہیں ایسی شرارت آخر
شاخ پر بیٹھے پرندوں کو اڑا دیتے ہو
کیا تمہیں کم ہے میری شمع محبت کی ضیا
میرے ہو تے جو چراغوں کو جلا دیتے ہو
سوچتی ہوں تمہیں مجھ سے محبت ہے کتنی
مہکی کلیوں کو میرا نام بتا دیتے ہو
عشق کے کھیل میں تم کو یہ ہنر ہے حاصل
ہار کے خود کو سدا مجھ کو جتا دیتے ہو
بات کرتے نہیں، ہنستے نہیں، ملتے بھی نہیں
تم بھی کیا خوب محبت کی سزا دیتے ہو
شازیہ عالم شازی
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 8365
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 8365 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 8365
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply