اگر ہم برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ طویل عرصے پر محیط ہے۔ یہاں ہندو معاشرے میں ذات پات اور چھوت چھات کا سخت پرانا نظام تھا۔ جب مسلم حکمران برصغیر میں آئے تو انہوں نے اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ اس دور میں علماء اور صوفیائے کرام نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگوں کے اچھے اخلاق اور تعلیمات سے متاثر ہو کر غیر مسلم لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنے لگے۔ اس تبدیلی کے بعد بعض اعلیٰ ذات کے ہندو طبقات نے مسلمانوں اور مسلم معاشرے کے خلاف مخالفت شروع کر دی۔ اسی دوران مسلم حکمرانوں کے درمیان اختلافات اور مسلکی تقسیم نے بھی معاشرے کو کمزور کیا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے ہندوستان میں قدم جمائے۔ انگریز تعداد میں کم تھے اس لیے انہوں نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی اپنائی جسے Divide and Rule کہا جاتا ہے۔ انگریزوں نے ایسا نظام متعارف کروایا جو ہندوؤں کے بنائے ہوئے نسلی امتیاز سے بھی آگے نکل گیا۔ اس نظام میں مخصوص طبقات کے لیے فوج، پولیس، تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ زمین کی خرید و فروخت پر بھی پابندیاں لگائی گئیں۔ اس نظام کے باعث معاشرے میں طبقاتی فرق مزید بڑھ گیا۔ طاقتور طبقات نے کمزور لوگوں پر دباؤ بڑھایا اور ان کے حقوق سلب کر لیے۔ باری تعالیٰ کا نظام ہے کہ ہر فرعون کے لیے موسیٰ ہوتا ہے۔ ایسے ادوار میں سماجی شعور اور اصلاحی تحریکوں کا آغاز ہوا تاکہ اس نظام کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔
ایک مردِ حر شہزادہ آزاد نے ہندوستان کے پسماندہ طبقات کے لیے جدوجہد کی جس کی تاریخ بہت طویل ہے۔ شہزادہ آزاد کی پیدائش پنجاب کے چھوٹے سے قصبے سمبڑیال میں ہوئی۔ کسی دانشمند کا قول ہے کہ آپ کے نام کا آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ مردِ حر کے لغوی اور اصطلاحی معنی آزاد مرد کے ہیں جو غیرت مند ہونے کے ساتھ کسی کا غلام بھی نہ ہو۔ راوی بتاتے ہیں کہ شہزادہ آزاد اپنے نام کی مناسبت سے بچپن سے نڈر اور بے خوف طبیعت کے مالک تھے، سچ بات کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبراتے تھے اور نہ ہی جھوٹ کا سہارا لیتے تھے۔ اپنی بے باک طبیعت کے مطابق انہوں نے ایک مشن شروع کیا اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کا ایک ہی راستہ اپنایا کہ پسے ہوئے طبقے کو علم کی روشنی سے روشناس کروایا جائے۔
انہوں نے 1921 میں جمیعت القریش ہند کی بنیاد رکھی۔ 1922 میں اس کے قواعد و ضوابط تیار کیے گئے اور اسے ایک فلاحی تنظیم کی شکل دی گئی۔ اسی تنظیم کے تحت 1922 میں پونچھ سے اردو اخبار “ترجمان” کا اجراء کیا گیا جو سیاسی حالات کے علاوہ ادبی موضوعات، شعر و شاعری اور اس پیغام پر مشتمل تھا کہ انسانوں میں طبقاتی فرق کو ختم کیا جائے جسے ہندوؤں اور انگریزوں نے بنایا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ہاں گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں، بلکہ فیصلے اعمال پر ہوں گے۔ ان کی اسی ترقی پسند سوچ کی وجہ سے اس وقت کی سامراجی طاقت نے انہیں ریاست جموں و کشمیر سے بدر کر دیا۔
بعد ازاں انہوں نے لائلپور (موجودہ فیصل آباد) کا رخ کیا اور اپنے مشن کو جاری رکھا۔ وہاں سے انہوں نے “اسلامی مساوات” کے نام سے اردو اخبار دوبارہ جاری کیا۔ اس اخبار میں بھی ترجمان کی طرح مساوات اور طبقاتی فرق کے خاتمے کا پیغام دیا گیا۔ اس جدوجہد میں انہوں نے اپنی پوری زندگی معاشرتی فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے وقف کر دی۔ وہ کئی مرتبہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے اور جموں میں طویل عرصہ قید کاٹی، لیکن اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
کشمیر بدر کے دوران انہوں نے برصغیر کے عظیم اسلامی اسکالر اور تحریکِ احرار کے بانی رہنما عطاء اللہ شاہ بخاری اور ممتاز صحافی و شاعر آغا شورش کاشمیری جیسے جید شخصیات کے ساتھ جیل کاٹی۔ آغا شورش کاشمیری نے اپنی کتاب “پس دیوار زنداں” میں “سمبڑیالوی اور میں” کے عنوان سے ان کا ذکر کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ وہ جیل میں سخت بیمار ہو گئے تو ایک انگریز ڈاکٹر ان کے علاج کے لیے آیا، مگر انہوں نے اپنے اصولوں کی وجہ سے انکار کر دیا کہ ان کی پوری زندگی انگریز سامراج کے خلاف گزری ہے۔ بعد میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور آغا شورش کاشمیری کے اصرار پر ایک مقامی ڈاکٹر سے علاج کروایا گیا۔
قیام پاکستان کے بعد وہ فیصل آباد میں مقیم ہو گئے اور وہاں بھی صحافت اور اپنے مشن کو جاری رکھا۔ وہ ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے۔ بقول مجروح سلطان پوری:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
بعد ازاں وہ اپنے آبائی گاؤں واپس چلے گئے اور 26 جون 1967 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے بیٹوں کے مطابق انہوں نے آخری ایام نہایت سکون اور اطمینان سے گزارے اور کہا کرتے تھے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی مقصد کے لیے پیدا کیا تھا کہ وہ طبقاتی نظام کے خاتمے کا پہلا قدم اٹھائیں۔ انہوں نے تحریک آزادی، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت اور پسماندہ طبقات کے حقوق کی بحالی کے لیے ڈوگرہ راج کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور قید و بند، نظر بندی اور علاقہ بدری جیسی صعوبتیں برداشت کیں۔ آج وہ ابدی نیند سو رہے ہیں جبکہ ان کی تیسری نسل تعلیم اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، جو شاید انہی کے خواب کی تکمیل ہے۔
Leave a Reply