تحریر: ہارون رشید قریشی
اگر ہم برصغیر پاک و ہند کی تاریخ طویل عرصے پر محیط ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہاں ہندو معاشرے میں ذات پات اور چھوت چھات کا سخت اور پرانا نظام تھا۔ جب مسلم حکمران برصغیر میں آئے تو انہوں نے اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر محبت اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ اس دور میں علماء اور صوفیائے کرام نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگوں کے اچھے اخلاق اور تعلیمات سے متاثر ہو کر غیر مسلم لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنے لگے۔ اس تبدیلی کے بعد بعض اعلیٰ ذات کے ہندو طبقات نے مسلمانوں اور مسلم معاشرے کے خلاف مخالفت شروع کر دی۔ اسی دوران مسلم حکمرانوں کے درمیان اختلافات اور مسلکی تقسیم نے بھی معاشرے کو کمزور کیا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے ہندوستان میں قدم جمائے۔ انگریز تعداد میں کم تھے اس لیے انہوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی جسے Divide and Rule کہا جاتا ہے۔ اور انگریزوں نے ایسا نظام متعارف کروایا جو ہندوؤں کے بنائے ہوئے نسلی امتیاز سے بہت آگے نکل گیا۔ جس میں مخصوص طبقات کے لیے فوج پولیس تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ زمین کی خرید و فروخت پر بھی پابندیاں لگائی گئیں۔ اس نظام کے باعث معاشرے میں طبقاتی فرق مزید بڑھ گیا۔ طاقتور طبقات نے کمزور لوگوں پر دباؤ بڑھایا اور ان کے حقوق سلب کر لئے۔ باری تعالی کا نظام ہے ہر فرعون کے ساتھ موسی کا پیدا ہونا لازم و ملزوم ہے۔ ایسے ادوار میں سماجی شعور اور اصلاحی تحریکوں کا آغاز ہوا تاکہ اس نظام کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔ ایک مرد حر شہزادہ آزاد نے ہندوستان کے پسماندہ طبقات کے لئے جدوجہد کی جس کی تاریخ بہت طویل ہے۔ شہزادہ آزاد کی پیدائش پنجاب کے چھوٹے سے قصبے سمبڑیال میں ہوئی۔ کسی دانشمند کا قول ہےآپ کے نام کا آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ مرد حُر کے لغوی اور اصطلاحی معنی آزاد مرد کے ہیں جو غیرت مند ہونے کے ساتھ کسی کا غلام بھی نہ ہو۔ راوی بتاتے ہیں شہزادہ آزاد اپنے نام کی مناسبت سے وہ بچپن سے نڈر اور بے خوف طبعیت کی وجہ سے سچ بات کرتے ہوئے کبھی بھی گھبراتے نہیں تھے اور نہ ہی جھوٹ کا سہارا لیتے۔ اپنی بےباک طبعیت کے مطابق ایک مشن شروع کیا اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ پسے ہوئے طبقے کو علم کی روشنی سے روشناس کروایا جائے۔ انہوں نے 1921 میں جمیعت القریش ہند کی بنیاد رکھی۔ 1922 میں اس کے قواعد و ضوابط تیار کیے گئے اور اسے ایک فلاحی تنظیم کی شکل دی گئی۔ اس تنظیم کے تحت اس نیک کام کی ابتدا سال 1922 کو پونچھ سے اردو اخبار ” ترجمان” کا اجراء کیا جو سیاسی حالات کے علاوہ ادبی موضوعات شعر و شاعری اور ترجمان کے ذریعے ایک ہی پیغام تھا کہ انسانوں میں طبقاتی فرق کو ختم کیا جائے جسے ہندوؤں اور انگریزوں نے بنایا ہے۔ جب کہ ہمارے پیارے نبی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اللہ تعالی کے ہاں گورے کو کالے پر فوقیت نہیں ہوگی بلکہ اعمال پر فیصلے ہوں گے اور ان کی ترقیاتی سوچ کی وجہ سے اس وقت کی سامراجی طاقت نے انہیں ریاست جموں کشمیر بدر کر دیا اور انہوں نے لائلپور حالیہ فیصل آباد کا رخ کیا اور اپنے مشن کو جاری رکھا اور فیصل آباد سے اسلامی مساوات کے نام سے اردو اخبار کا دوبارہ اجراء کیا۔ اسلامی مساوات میں ان کے پہلے اخبار ترجمان کے مطابق ایک دوسرے سے برابری پر ملیی تاکہ انگریز کے بنائے ہوئے فرسودہ طبقاتی نظام کے خلاف آواز آٹھائی جا سکے۔ اور یوں سمجھ لیں کہ شہزادہ آزاد کی زندگی معاشرتی فرسودہ نظام کو ختم کروانے میں گزر گئی۔ اس جدوجہد میں کئی مرتبہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے، جموں میں انہوں نے زیادہ وقت جیل میں کاٹا لیکن فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ کشمیر بدر کے دوران انہوں نے برصغیر کے عظیم اسلامی اسکالر، بے مثال خطیب، اور تحریکِ احرار کے بانی رہنما جو اپنی شعلہ بیانی، انگریز دشمنی، اور تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے کی گئی لازوال خدمات کی وجہ سے امیرِ شریعت کے نامور عالم عطاء اللہ شاہ بخاری اور برصغیر کے ایک ممتاز صحافی، سیاست دان، خطیب، اور بلند پایہ شاعر آغا شورش کاشمیری جیسے جید لوگوں کے ساتھ جیل کاٹی۔ شورش کاشمیری نے اپنی کتاب پسے دیوار زنداں میں ایک اقتساب “سمبڑیالوی اور میں” لکھا۔ اس میں شہزادہ آزاد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ جیل میں سخت بیمار ہو گئے۔ ایک انگریز ڈاکٹر ان کے علاج کے لئے آیا تو شہزادہ صاحب اپنے اصولوں کے بہت پکے تھے اور کہا کہ میری تمام زندگی انگریز سامراج کے خلاف گزری ہے لہذا انہوں نے انگریز ڈاکٹر سے علاج کروانے سے منع کر دیا اور یہ سب کے لئے حیرت کی بات تھی ایسا کبھی کسی نے نہ سنا اور نہ دیکھا۔ آغا شوررش کاشمیری اور عطاء اللہ شاہ بخاری کے اسرار پر ایک لوکل ڈاکٹر سے علاج کروایا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ فیصل آباد میں رہائش پزیر ہو گئے۔ وہاں انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی کام کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا۔ شہزادہ آزاد ایسی مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے بقول مجروح سلطان پوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ اور اپنی بنائی ہوئی تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے بعد اپنے آبائی گاوں میں چلے گئے اور 26 جون 1967 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ بقول ان کے بیٹوں کے باوجی (والد محترم) نے آخری ایام بہت سکون اور اطمینان سے گزارے اور کہتے تھے شاید باری تعالی نے مجھے اسی لئے پیدا کیا تھا کہ بندوں کے بنائے ہوئے طبقات کو ختم کروانے میں پہلا قدم اٹھا سکوں اور دل ہی دل میں مسکراتے کہ جو خواب میں دیکھا تھا اس کا رزلٹ آنا شروع ہو گیا ہے۔آپ نے تحریک آزادی برصغیر، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت اور پسماندہ طبقات کے حقوق کی بحالی کے لئے ڈوگرہ راجاؤں خلاف بر چڑ کر حصہ لیا اور قیدوبند، نظر بندی، اور علاقہ بدر جیسی صعوبتیں برداشت کیں۔ آج وہ سکون اور اطمینان سے ابدی نیند سو رہے ہیں اور ان کی تیسری نسل تعلیم کے میدان ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے شاید یہی خواب شہزادہ آزاد نے دیکھا تھا۔
Leave a Reply