وہ دل جو کب کا ٹوٹ گیا ،اس دل کا حال بتائیں کیا
جو بے خبری میں مارے گئے،روداد وہ اپنی سنائیں کیا
وہ غزلیں اور کچھ نظمیں تھیں جو ہجر میں اس کے لکھی تھیں
جب وہ ہی نہ ان کو سمجھ سکے ، ہم دنیا کوسمجھائیں کیا
ہم پیار کا جب اقرار کریں وہ نفرت کا اظہار کریں
جو مڑ کے بھی نہ دیکھے ہمیں اب اس کے پیچھے جائیں کیا
انسان ہی دشمن انساں کا، نہیں اس کے سوا کوئی اور نہیں
جہاں ڈسنے کو انسان بہت ،سانپوں سے پھر ڈسوائیں کیا
چل اٹھ بھی جا تم ؔفرزانہ اس بستی سے اب کوچ کرو
جہاں درد کا درماں کوئی نہیں،وہاں زخم اپنے دکھائیں کیا
فرزانہ صفدر ۔ دوحہ قطر
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 5066
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 5066 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 5066
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply