اظہر عباس
جہاں تو دیکھ رہا ہے ، وہاں نہیں ہوں میں
تجھے بتا تو چکا ہوں ، یہاں نہیں ہوں میں
یہ ٹھیک ہے ، مَیں ترے کام کا نہیں ، نہ سہی
یہ جانتا ہوں ، مگر رائیگاں نہیں ہوں میں
ذرا سی دیر لگے گی مجھے سمجھنے میں
سلگتی آگ ہوں ، کوئی دھواں نہیں ہوں میں
فلاں فلاں سے کوئی واسطہ نہیں ہے مرا
ترے حساب سے یوں بھی فلاں نہیں ہوں میں
تمہیں یہ کیسے بتاؤں کہ ساتھ کب تک ہوں
کہ یوں بھی لمحۂ آئندگاں نہیں ہوں میں
یہ اشک اور کسی غم کی دین ہیں ، اظہر!
تمہارے ہجر میں گریہ کناں نہیں ہوں میں
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 7239
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 7239 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 7239
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply