مضارع مثمن اخرب محذوف
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن
“ہے مجھے یقیں”
پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں
یہ وقت اس جہاں میں اب رُک نہ پائے گا
راتیں غموں کی دنیا میں ڈھل سی جائیں گی
یہ بند سا مقدر پھر کُھل سا جائے گا
الفت سکوں بکھیرے دنیا میں جابجا
دل لگ مرا یوں جائے گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں
دل روئے اب نہ خوں کے آنسو یہاں کبھی
انساں کی ہو ہمیشہ تعظیم ہر جگہ
مل پائے حق سب انسانوں کو جہان میں
انساں کو مل سکے پھر تکریم ہر جگہ
گزرے بہادری سے ہر پل بلا شبہ
ایسا سمے بھی آئے گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں
سورج بکھیرے گا کرنیں روشنی کی ہی
حدّت سے ساری فصلیں خوشیوں کی کِھل سکیں
جو دور ہوں اندھیرے اس زندگی سے ہی
پھر جو خوشی سے بھاٸی آپس میں مِل سکیں
اس کاٸنات میں رنگ و بُو اُمڈ سکے
اک دن سویرا چھاۓ گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آۓ گا ہے مجھے یقیں
ثمرین ندیم ثمر
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 1353
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 1353 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 1353
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply