Today ePaper
Rahbar e Kisan International

نظم/ عنوان ؛ شک

Poetry - سُخن ریزے , Snippets , / Friday, July 19th, 2024

یہ کس نے چاہا تھا خُلد سے آدمی
زمیں پر پٹخنا
خدا نے آخر کہاں سے سیکھی
ہوس انا کی ؟
کہ ایک پل میں
ہزار صدیوں سے گوندھی مٹی
سے بنا کے آدم
کو پھر سے مٹی بنا دیا تھا
مرے مطابق خدا بھی شک کا
لباس اوڑھے
وہ اپنے کُن سے یقین توڑے
کسی کی باتوں میں آگیا تھا
مجھے تو شک ہے خدا بھی ابلیس ہی کی چالوں
میں آگیا تھا
وگرنہ اک خوشے میں تھی طاقت
بھلا ہی کتنی
وہ ایک آدم
جسے نہ عقل و شعور کی تھی خبر ذرا بھی
نہ یہ کہ گندم میں زرد سے پہلے مرحلہ ہے ہرا بھی
جسے نہ رنگوں کا کچھ پتا تھا
جسے نہ ڈھنگوں کا کچھ پتا تھا
جسے نہ شک تھا
جسے نہ پک تھا
اسے نکالا تو کیوں نکالا؟
سوال کیا تھا ؟
جواب کیا ہے؟
کسے خبر ہے ؟
خدا کا شک تھا ؟
کہ چالِ ابلیس ؟ کیوں میں الجھا ہوں اس تشکک
کے فلسفے میں
میں کون ہوتا ہوں
ان سوالوں کو بے وجہ یوں اٹھانے والا ؟
ہاں یاد آیا
میں آدمی ہوں ۔۔۔!
میں آدمی ہوں…!
میں بھی محبت کی اک کٹھن راہ میں
یقین کے جوتے
اتار کر شک کے موزے پہنے
ہوئے چلا تھا
مجھے تو حق ہے
کہ میں اٹھاؤں
سوال سارے
زوال سارے ۔۔۔!

ناصر زملؔ

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: نظم/ عنوان ؛ شک, ID: 8449

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 8449
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: نظم/ عنوان ؛ شک, ID: 8449

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International