انٹرویو ہارون رشید قریشی
کرکٹ سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔ سال 1969 میں جب نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ دنیائے کرکٹ کا تاریخی میچ جس میں پہلی مرتبہ تین بھائی ٹیسٹ میچ کا حصہ بنے تھے، سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 24 اکتوبر 1969 کو کراچی میں کھیلا گیا جس میں پاکستان کے پہلے لیجنڈری بیٹسمین لٹل ماسٹر حنیف محمد کا آخری اور ان کےسب سے چھوٹے بھائی صادق محمد کا پہلا میچ تھا اور ان کے تیسرے بھائی مشتاق محمد بھی اس میچ کا حصہ تھے۔ یہ میچ میں نے اپنے مرحوم نانا اور مرحوم والد کے ساتھ فلپس ٹرانزسٹر کے پرانے ریڈیو میں سنا تھا۔ اس دور میں کرکٹ کمنٹری ریڈیو ٹرانزسٹر پر سنی جاتی تھی۔ کیمنٹیٹر ریڈیو پر میچ کا ایسا نقشہ کھینچنے تھے کہ آپ کو ایسے لگتا کہ جیسے آپ گراونڈ میں موجود ہوں۔ میں نے پہلی مرتبہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں 1973 کو پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان میچ دیکھا تھا، اس وقت پاکستان کی مضبوط بیٹنگ ماجد خان، مشتاق محمد اورظہیر عباس جیسے عظیم بیٹسمینوں کے ہاتھ میں تھی اور تب سے میری زندگی میں کرکٹ کا عشق ہمیشہ سے ٹاپ پر رہا۔ پچھلے 57 سالوں میں گلی محلے کی کرکٹ سے کلب کرکٹ، فرسٹ کلاس میچز، انٹرنیشنل، ٹیسٹ کرکٹ، ون ڈے، T20 سے T10 تک کی کرکٹ اور اس کے قوانین کو بدلتے ہوئے بڑے قریب سے دیکھا۔ کرکٹ چاہیے کسی بھی فارمیٹ میں کھیلی جائے کرکٹ کی گراونڈز عظیم کھلاڑیوں کے دم سے آباد ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نومبر 2025 تک ٹیسٹ کرکٹ میں لگ بھگ 260 کھلاڑی ٹیسٹ کیپ حاصل کر چکے ہیں۔ اس لسٹ میں بہت سے کھلاڑی آئے اور چلے گئے ماضی سے لیکر آج تک کچھ ایسے نام ہیں جو اپنے کھیل اور کردار سےدنیا کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں کے دل کے قریب رہے ہیں۔ یہ عوام ہی ہیں جو ان کو سپر سٹار کا درجہ دیتے ہیں۔
پاکستانی سپر سٹار بلے باز انضمام الحق نجی دورے پر قطر آئے ہوئے تھے۔ میں نے قطر میں عزیز دوست اسپورٹس جرنلسٹ رضوان رحمت، گلف ٹائمز سے رابطہ کیا۔ انھوں نے فواد حسین، دی پیننسولا،وِنّے نائیڈو، قطر ٹریبیون اور امین الاسلام، قطر ریڈیو اردو سروس سے ایک ٹیم تشکیل دی اور انضمام الحق کو ملنے النجادہ ہوٹل پہنچ گئے۔ انضمام الحق ہمارے سامنے موجود تھے۔ کہتے ہیں پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے۔ کالی شلوار قمیض اور سر پر سفید ٹوپی پہنے ہمیں ایسے لگا ہم کسی تبلیغی جماعت کے بندے سے مل رہے ہیں۔ وہ ہمیں بڑے خلوص اور پیار سے ملے ہمیں یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم پہلی مرتبہ مل رہے ہیں۔ ہم سوچ کر گئے تھے ہمارے لئے دس پندرہ منٹ میں ملاقات کر کے فارغ ہو جائیں گئے۔ یقین کریں ہمارا اور انضمام الحق انٹرویو پچاس منٹ تک چلا۔
ہماری گفتگو کاآغاز وردنگ سواگ کے اس بیان پر ہوا کہ آپ مڈل آڈر ان کے دور بلکہ آج کے دور میں بھی سب بہترین کھلاڑی ہیں کیونکہ گیند کو کھیلنے کے لئے آپ کے پاس بہت ٹائم ہوتا تھا۔ یہ کلپ میں نے بھی دیکھا ہے سواگ کا شکریہ۔ اگر ہم انضمام الحق کا خصوصی اور تفصیلی انٹرویو کا جائزہ لیں تو ایک انتہائی تفصیلی اور سچی اور صاف کھل کر بات کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ کے مختلف پہلوؤں، نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری، ڈومیسٹک سسٹم، عالمی لیگز، میڈیا کے اثرات اور قطر میں کرکٹ کے مستقبل پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اور ہمیں ایسے محسوس ہوا انضمام الحق اچھی کرکٹ کھیلنے کے کھیلنے کے ساتھ اس کھیل کی تمام باریکیوں اور تفصیلات سے واقف ہے۔
“پاکستانی کرکٹ کی اصل بنیاد مضبوط فرسٹ کلاس کرکٹ ہے” جب تک آپ چار روزہ کرکٹ نہیں کھیلتے آپ کی ٹیم دنیا کی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی کبھی بھی نہیں رہی لیکن اصل مسئلہ ہمیشہ سے “کرکٹ کے ڈھانچے” یا کرکٹ کے نظام اوراس کے تسلسل کا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کھلاڑی چار روزہ کرکٹ نہیں کھیلیں گے تو ان کی تکنیکی بنیاد مضبوط نہیں بن سکتی، اور یہی وجہ ہے کہ کارکردگی میں عدم تسلسل نظر آتا ہے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ کی کمزوری اور اس کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے واضح کیا کہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ پہلے بہت مضبوط ہوا کرتی تھی جہاں کھلاڑی زیادہ وقت وکٹ پر رہ کر اپنی تکنیک اور ذہنی اور جسمانی فٹنس کو بہتر بناتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان کھلاڑیوں کی توجہ زیادہ تر T20 تک محدود ہے۔ جہاں صرف چند اوورز میں کھیل ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے بیٹسمین اور بولر دونوں کی مکمل تیاری نہیں ہو پاتی۔ ان کے مطابق فرسٹ کلاس کرکٹ صرف رنز بنانے کا نام نہیں بلکہ یہ کھلاڑی کو صبر، برداشت، حکمت عملی اور گیم کے بارے نظم وضبط اور ذہنی فٹنس سکھاتی ہے جو بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
بھارت، آسٹریلیا اور ڈومیسٹک سسٹم کا فرق! انھوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئی پی ایل کی مقبولیت کے باوجود ہر بڑے کھلاڑی کو انڈین ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے
فرسٹ کلاس کھیلنا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ڈومیسٹک سسٹم مضبوط ہے اور نئے کھلاڑی مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ انضمام الحق نے آسٹریلیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی شیفیلڈ شیلڈ جیسے فرسٹ کلاس مقابلے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہی بنیاد ہے جس کی وجہ سے آسٹریلوی ٹیم میں مستقل مزاجی اور مضبوط بیک اپ موجود رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اسی ماڈل کی طرف واپس جانا ہوگا تاکہ کھلاڑیوں کی تیاری مکمل ہو سکے۔
ٹی ٹونٹی لیگز اور سلیکشن کا نیا نظام! انضمام الحق کے مطابق آج کے دور میں T20 لیگز صرف تفریح نہیں بلکہ قومی ٹیم میں سلیکشن کا اہم معیار بن چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل، پی ایس ایل اور بگ بیش جیسی لیگز میں کھلاڑی دباؤ میں کھیلتے ہیں جہاں ہزاروں شائقین کے سامنے پرفارم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی دباؤ سلیکٹرز کے لیے ایک اہم معیار بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ لیگز کھلاڑیوں کے مزاج اعتماد اور پریشر ہینڈل کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں، جو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ کی بہتری! انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل نے پاکستان کرکٹ کو ایک نیا معیار دیا ہے۔ کئی غیر ملکی کھلاڑی بھی پی ایس ایل کے معیار کی تعریف کر چکے ہیں۔انضمام الحق نے کہا کہ جہاں مختلف ممالک کے بہترین کھلاڑی مسلسل کھیلیں گے وہاں کرکٹ کا معیار خود بخود بلند ہوگا۔ انضمام نے کہا کہ ابتدا میںT20 کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا تھا لیکن آج یہ دنیا میں کرکٹ سب سے بڑی شکل بن چکی ہے۔ اسی طرح پی ایس ایل بھی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوگی۔
جدید کرکٹ میں تیز رفتاری کا دور! انضمام الحق نے کہا کہ آج کی کرکٹ مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ گراؤنڈز بھی چھوٹی کر دی جاتی ہیں اور پچز خاص طور سب بیٹنگ کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب 200 یا 220 رنز کا ہدف عام بات ہو چکا ہے، جبکہ پہلے 50 اوورز میں 250 بھی بہت بڑا اسکور سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق کرکٹ اب ایک تیز رفتار کھیل بن چکی ہے، جہاں ٹیمیں ہر اوور میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے ٹیمیں 20 اوورز 200 سے اوپر سکور آسانی سے چیز کر لیتی ہیں۔
آج کل میڈیا کسی بھی نئے کھلاڑی کو “لیجنڈ” پکارتے ہیں ۔ آپ کے نزدیک ایک حقیقی لیجنڈ بیٹسمین یا بولر کی اصل پہچان کیا ہے؟ انضمام الحق میرے خیال میں آج کل ایک دو اچھی اننگز یا ایک سیریز کی پرفارمنس کے بعد کھلاڑیوں وقت سے “لیجنڈ” کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اصل لیجنڈ وہ ہوتا ہے جو لمبے عرصے تک مسلسل پرفارم کرے مشکل حالات میں اپنی ٹیم کو میچ جتوائے اور اپنی کارکردگی سے دنیا پر گہرا اثر چھوڑے۔ لیجنڈ کھلاڑی صرف رنز یا وکٹوں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ اس کے اثر سے پہچانا جاتا ہے۔ جب ایسا کھلاڑی میدان میں ہوتا ہے تو مخالف ٹیم بھی دباؤ میں آ جاتی ہے اور اپنی ٹیم کا اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماضی قریب بیٹنگ میں سچن ڈنڈلکر، ورات کوہلی، ریکی پویٹننگ، برائن لارا، ، کمارا سنگا کارا، سعید انور،ور محمد یوسف جیسے کھلاڑی اسی لیے لیجنڈ مانے جاتے ہیں کہ انھوں نے برسوں تک مستقل مزاجی سے اپنی ٹیموں کو کامیابیاں دلائیں۔ اسی طرح بولنگ میں بھی لیجنڈ وہ ہوتا ہے جو میچ کا نقشہ بدل دے۔ پاکستان میں ثقلین مشتاق، عبدالقادر، وقار یونس اور وسیم اکرم اسی معیار پر لیجنڈ مانے جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دو اچھی پرفارمنس کے بعد کھلاڑیوں کو جلدی بڑا بنا دیا جاتا ہے، لیکن اصل لیجنڈ وہی ہے جو برسوں تک اپنے کھیل کا معیار برقرار رکھے اور نئی نسل کے لیے مثال بنے۔سب سے اہم بات میری نظر میں وہ کھلاڑی لیجنڈ مانا جس کی مخالف اپنی ٹیم میٹنگ میں زیادہ وقت اس کھلاڑی پر لگائیں اگر بیٹسمین ہے تو آوٹ کا پلان کیا ہے اگر بالر تو اسے خلاف کیا خکمت عملی اپنانی ہے۔ میرا خیال ہے اس سے بہتر لیجنڈ پر تبصرہ نہیں ہو سکتی۔
نوجوان کھلاڑیوں کی فٹنس اور تکنیکی کمی! انضمام الحق نے کہا کہ آج کے کھلاڑی پہلے سے زیادہ فٹ ہیں اور جسمانی فٹنس پر زیادہ محنت کرتے ہیں اور انھیں کھیلنے کے زیادہ مواقع بھی ملتے ہیں۔ تاہم ان کا مسئلہ یہ ہے کہ تکنیکی بنیاد کمزور ہو رہی ہیں۔ کیونکہ انھیں فرسٹ کلاس یا چار روزہ کرکٹ کھیلنے کو کم ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی نے کھلاڑیوں کو سپر فٹ بنادیا ہے لیکن کرکٹ کی تکنیک اور وکٹ پر زیادہ کھڑے ہونے کا اسٹمنا ختم ہوتا جا رہا ہے۔
پاور ہٹنگ اور جدید بیٹنگ! انھوں نے کہا کہ آج کی کرکٹ میں پاور ہٹنگ ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے اس شعبے میں بہت ترقی کی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی ڈومیسٹک کرکٹ میں پاور ہٹنگ کو فروغ نہ دیا تو ہم عالمی معیار سے پیچھے رہ جائیں گئے۔
پاکستان ٹیم اپنی اینٹری کے بارے میں بتائیں: لاہور میں پریکٹس کے دوران مجھے عمران بھائی کے کہنے پر بیٹنگ کے لئے بھیجا گیا۔ شروع میں بہت نروس تھا اور دو تین مرتبہ آوٹ ہو گیا۔ جب عمران بھائی بولنگ کرنے آئے تو میں نے انہیں بڑی خود اعتمادی سےاپنی پسندیدہ شارٹس پل اور ہک کھیلی اور یوں پاکستان ٹیم کے لئے میرے دروازے کھل گئے۔
پاکستانی بولنگ کا زوال! انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کی پہچان ہمیشہ فاسٹ باولرز رہے ہیں لیکن اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والے بولرز پتہ نہیں کہاں گم ہوگئے بلکہ وقت کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پاکستان کے پاس ہمیشہ میچ ونر بولرز ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے ہماری ٹیم زیادہ میچز جیتا کرتی تھی۔ اب ہماری ہار کی وجہ تیز باؤلرز کی سپیڈ کم ہو کر 130 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ گئی ہے۔اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بابر اعظم اور موجودہ ٹیم کے بارے میں انضمام الحق نے کہا کہ وہ پاکستان کے بہترین بیٹسمینوں میں شامل ہیں اور ان پر غیر ضروری تنقید درست نہیں۔انھوں نے کہا کہ بڑے کھلاڑیوں کو وقت دینا چاہیے کیونکہ وہ وقت کے ساتھ مزید بہتر ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا اثر: انضمام الحق نے کہا کہ سوشل میڈیا نے کرکٹ کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ اب ایک اچھی یا بری پرفارمنس کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق کھلاڑیوں کو مثبت تنقید کی ضرورت ہے، نہ کہ منفی پروپیگنڈے کی
پاکستان کرکٹ کا مستقبل: انھوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے کھلاڑی آ رہے ہیں اور بہتری کے آثار موجود ہیں، لیکن بنچ اسٹرینتھ ابھی مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا پاکستان کے چند کھلاڑی انگلش کاونٹی کھیلتے تھے۔ آئی پی ایل کے علاوہ دنیا کی کوئی ایسی کرکٹ لیگ نہیں ہے جہاں ہمارے کھلاڑی نہ کھیلتے ہوں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل روشن ہے۔
1992 کے ورلڈ کپ کے دوران یہ بات مشہور تھی کہ آپ بیمار تھے۔ اس بارے میں حقیقت کیا ہے؟ انضمام الحق: اس وقت میرے بارے میں یہ بات ضرور مشہور ہوئی کہ میں بیمار تھا یا مکمل فٹ نہیں تھا، لیکن حقیقت میں معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا میرے پیٹ میں شدید درد تھا۔ عمران بھائی نے کہا کہ تم یہ فائنل میچ کھیل رہے ہو۔ آپ کو یاد ہوگا شروع کے کچھ اوور میں گراونڈ پر نہیں آیا کیونکہ طبیعت خراب تھی۔ بیماری کے باوجود میں ٹیم کا حصہ تھا اور باقی سب ہسٹری ہے دنیا جانتی ہے۔ بعض اوقات معمولی فٹنس ایشوز یا تھکن کو میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کر دیتا ہے، اور یہی میرے کیس میں بھی ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ ٹیم اس وقت بہترین کھیل رہی تھی اور ہمارا مقصد ورلڈ کپ جیتنا تھا، جس میں ہم کامیاب رہے۔ جب بھی موقع ملا میں نے اپنی پوری کوشش کہ ٹیم کے لئے اچھی کارکردگی کر سکوں۔ ہر کھلاڑی کے کیریئر میں فٹنس اور فارم کے اتار چڑھاؤ آتے ہیں، اور میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
کرکٹ کے دوران کوئی افسوس: آخری میچ میں مجھے گریٹ بیٹسمین جاوید میاں داد کے ٹیسٹ میچز ریکارڈ سے صرف 2 رنز کم کا افسوس ہوا کیونکہ میاں داد کہتے تھے میرا ریکارڈ تم توڑ سکتے ہو۔ بہرحال دنیا میں رکارڈ بنتے ہیں اور ٹوٹتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک کرکٹ کھیلی جائے گئی۔
“دوحہ قطر میں کھیلوں کا مستقبل: انضمام الحق نے کہا کہ دوحہ قطر اس وقت کھیلوں کا ابھرتا ہوا مرکز بن رہا ہے۔ یہاں کی حکومت فٹ بال کے ساتھ ہر کھیل کو بھرپور سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ یہ خطہ “انڈر ریٹڈ” ہے کیونکہ دنیا ابھی تک اس کی مکمل صلاحیتوں سے واقف نہیں۔ قطر میں کھیلوں کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قطر نے دنیا کو بہترین انتظامات دکھائے اور FIFA World Cup 2022 کی کامیابی اسی کی زندہ مثال ہے۔ اور اب کرکٹ کے لیے بھی یہاں بہت بڑا پوٹینشل موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہاں باقاعدہ کرکٹ ایونٹس ہوں تو نوجوانوں میں کھیل کا شوق مزید بڑھے گا اور قطر مستقبل میں ایک بڑا اسپورٹس ہب بن سکتا ہے۔”
اختتامی بات۔ انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن ہے، بشرطیکہ فرسٹ کلاس کرکٹ کو مضبوط کیا جائے اور نوجوانوں کو لمبی کرکٹ کھیلنے کے زیادہ مواقع دیے جائیں تاکہ آنے والے وقت میں پاکستانی کرکٹ کا کھویا ہوا مقام واپس لا سکیں
بہترین پینل انٹرویو۔۔ماشاءاللہ کیا کہنے