Today ePaper
Rahbar e Kisan International

۔۔۔۔ گریٹر اسرائیل کا خواب ۔۔۔

Articles , Snippets , / Monday, April 20th, 2026

rki.news

چھلی جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہاں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد کچھ اور بہت بڑا ایونٹ ہونے جا رہا ہے ۔ یہ رائے ایک دن پہلے ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران اور اسی دوران ٹرمپ کی جانب سے آنے والے بیانات سے قائم ہوئی تھی، جبکہ جمعرات کو ایک خبر مقتدر اور با وثوق زبانوں کے ذریعے کانوں تک پہنچی کہ تہران وزٹ کے بعد جنرل عاصم منیر ممکنہ طور پر امریکہ بھی جاسکتے ہیں۔ لیکن اسی رات، جب پاکستان کے وقت کے مطابق رات کے گیارہ بج رہے تھے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ ایران سے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، ڈیل فائنل ہونے جارہی ہے اور وہ خود اس ڈیل پر دستخط کرنے کیلئے اسلام آباد جاسکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے کچھ گھنٹے پہلے امریکی وزیر جنگ نے، ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کی بات کی تھی جس سے واضح ہو رہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر موجود سخت گیر اسرائیل نواز حامی کسی صورت نہیں چاہتی اور نہ ہی اس بات کی اجازت دے گی کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہو جائے۔
کیا امن معاہدے کے مخالفین اتنے طاقتور ہیں؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ٹرمپ کے آس پاس جو اہم کردار ہیں ان کے بارے میں جاننا ضروری ہوگا۔
آئیے اس گتھی کو سلجھانے کی ابتداء خود ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے کرتے ہیں ۔ان کا شوہر اور ٹرمپ کا داماد جیرڈ کشنر ایک سخت گیر شخص، نتین یاہو کا قریبی، گریٹر اسرائیل کا حامی ایک کٹر یہودی ہے ۔
اسی طرح اسٹیو وٹکوف، ڈیوڈ فریڈمین ،جیسن گرین بلیٹ، مریم ایڈلسں اور دیگر شامل ہیں، جو گریٹر اسرائیل کے شدید حامی لوگ ہیں ۔
جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کی بیٹی کے درمیان جب تعلقات بڑھے اور بات شادی تک پہنچی تو جیرڈ کشنر کی سخت گیر یہودی فیملی کی پہلی شرط یہ تھی کہ ایوانکا پہلے آرتھوڈوکس یہودی مذہب قبول کرے، اس نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد 2009 میں دونوں کی شادی ہوگئی ۔
جیرڈ کشنر کا تعلق ایک بڑے یہودی کاروباری خاندان سے ہے، اپنے سسر کے پہلے دور حکومت میں آبراہام معاہدہ اور عرب نارملائیزیشن کے کام اسرائیل ایجنڈے کے تحت اسی نے کروائے تھے۔ وہ مڈل ایسٹ کے معاملات دیکھتا ہے، قطر اور سعودی عرب کے ساتھ کاروباری تعلقات کے درمیان یہی شخص کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح اسٹیو وٹکوف ٹرمپ کا مشیر برائے مڈل ایسٹ ہے، ایک معروف، کامیاب اور بڑا کاروباری ہے، ٹرمپ کا بہت قریبی ساتھی اور اسرائیل نواز ہے۔ یہ دونوں وہ لوگ ہیں جو ایران امریکہ مذاکرات کیلئے اسلام آباد آئے تھے۔
اسی طرح اسٹیفن ملر سینئر پالیسی ایڈوائزر ہے، اسی نے امیگریشن پالیسی اور نظریاتی فریم ورک بنایا تھا جس وجہ سے ٹرمپ حکومت کو امیگرنٹس کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بھی کٹر یہودی اور گریٹر اسرائیل کا حامی ہے۔ ایک بڑے امریکی یہودی ادارے “ریفارم جوڈ ازم ڈاٹ او آر جی” کے مطابق یہ ٹرمپ پر گہرا اثر رکھتا ہے ۔جیسن گرین بلیٹ بھی آرتھوڈوکس یہودی اور آبراہام معاہدے کا اہم کردار ہے جو نہائت اہم لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ جبکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگھسیتھ خود ایونجیلیکل کرسچن ہے، جن کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے آنے سے پہلے آخری زمانے کی ایک جنگ ہوگی، جس کے بعد مسیح آئیں گے ۔ ایران کی جنگ اسی تناظر میں مسلط کی گئی ،یہ ایران کو شر ، شیطان اور امریکہ کو خیر اور سلامتی کہتا ہے۔ ہیگھ سیتھ گذشتہ سال جون سے پینٹاگون میں سرکاری طور پر دعائیہ تقریبات منعقد کرواتا ہے ۔ جن میں ایونجیلیکل کرسچن مذہب کے نظریے کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ ٹرمپ کے ووٹرز کی اکثریت بھی اسی عقیدے سے تعلق رکھتی ہے ۔
اب آتے ہیں نیتن یاہو کے واشنگٹن پر اثر ورسوخ پر،
ایران پر حملہ اٹھائیس فروری کو ہوا، گیارہ فروری کو اس نے امریکہ کا دورہ کیا، اور وار روم، جہاں صدر کے علاوہ چند ہی اہم لوگ جاسکتے ہیں، نیتن یاہو نے اسی روم میں نوے منٹ ٹرمپ کو بریفننگ دی ، جس میں ایران پر حملے کے بعد کیا ہوگا ،اس کا پورا نقشہ ویڈیوز سمیت پیش کیا تھا۔ اس بریفننگ، جسے کچھ روز قبل نیویارک ٹائمز نے رپورٹ بھی کیا ہے، کہا گیا کہ یہ جنگ زیادہ دیر نہیں چلے گی، ایران کی سیاسی، عسکری اور خفیہ اداروں کی قیادت کے مارے جانے کے بعد رجیم فوری طور تبدیل ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز بھی بند نہیں ہوگا۔ اس حساس ترین بریفننگ میں موجود عہدیدار نیتن یاہو سے متفق تھے، سوائے دو تین کے، جن میں ایک خاموش رہا، ایک نے کہا کہ جنگ ہو بھی تو مختصر ہو، لیکن ایرانی ردعمل کیا ہوگا، اس بارے میں بے خبری امریکی تاریخ کی بڑی انٹیلیجنس ناکامی تھی۔ جس نے امریکہ کو وہاں تک پہنچا دیا جہاں اب اس کے عالمی کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔
ایرانی ردعمل نے ہی نیتن یاہو اور ٹرمپ کا بیڑا غرق کیا، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد جب بھی ٹرمپ نے کوئی ایسی بات کی، جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ جنگ سے نکلنا چاہ رہا ہے، اچانک ایپسٹین فائلز کی نئی نئی ویڈیوز سامنے آجاتیں۔
نیتن یاہو کیلئے اب ایران امریکہ معاہدہ ایک ایسا پھندا ہوگا جو اس کے زوال کا سبب بنے گا۔ اور گریٹر اسرائیل والا منصوبہ بھی بہت پیچھے چلاجائے گا۔ اس لیئے وہ کسی صورت نہیں چاہے گا کہ یہ معاہدہ ہو۔ کیونکہ ایرانی رجیم چینج کا سب سے بڑا خواب چکنا چور ہوچکا ہے۔ باقی سارے نکات ایسے ہیں جن کی قیمت کم ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے اسلام آباد آنے کی تاریخ سامنے آنے کے بعد ایپسٹین فائلز مزید سامنے آئیں گی تاکہ ٹرمپ کو بلیک میل کیا جاسکے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی اپنی بیوی ہی کوئی کردار ادا کرتی نظر آئے ۔
ٹرمپ کو یہ خواب دکھا کر اس جنگ میں پھنسایا گیا کہ وہ اپنے ووٹروں کو بتائے کہ کیسے ایک دہشت رجیم کو ختم کیا اور وسائل بھی ہڑپ لیئے ۔ لیکن سب الٹ ہوگیا ۔اب وہ نکلنا چاہتا ہے ،کیونکہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن اس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ یہ جنگ امریکہ کے لئے بہت مہنگی ہوگئی ہے، ایران کے نسبتاً کم قیمت اور سستے ڈرون کو مارنے کیلئے امریکہ کے اسلحہ خانے میں پڑے نہائت مہنگے میزائل رفتہ رفتہ ختم ہورے جا رہے ہیں۔ عرب ممالک ناراض ہیں کیونکہ امریکہ وہاں اپنے بحری بیڑے ہونے کے باوجود عربوں کا دفاع نہ کرسکا ۔
ٹرمپ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی اقتداری ڈھانچے میں اتنی سکت نہیں کہ وہ گریٹر اسرائیل سوچ، ان کے توسیعی مقاصد اور براہ راست یہودیوں پر اثر انداز ہوسکے۔
یہ معاہدہ صرف وطن عزیز پاکستان کی ہی نہیں ان تمام انسانوں اور ممالک کی جیت ہوگی جو نسل کشی کی کسی بھی صورت کے مخالف ہیں۔ وہ سب انسان جو اسرائیل کو اعلانیہ، نیم اعلانیہ یا خاموشی میں دہشت گرد اور ناجائز ریاست سمجھتے ہیں۔
جبکہ پاکستان، جس نے اسرائیل کو کبھی قبول نہیں کیا، اس معاہدے میں کامیاب ہوگیا تو یہ ہماری ملکی اور عالمی امن کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ جس میں اس جنگ کا اہم فریق شامل ہی نہ تھا۔

۔۔۔ قلم بردار ۔۔۔
تحریر: ارشد فاروق

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: ۔۔۔۔ گریٹر اسرائیل کا خواب ۔۔۔, ID: 51611

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 51611
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: ۔۔۔۔ گریٹر اسرائیل کا خواب ۔۔۔, ID: 51611

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International