افتخار راغبؔ
دوحہ قطر
ڈاکٹرنی نے نہرنی بھی ہے دی مرہم کے ساتھ
“زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا”
کر دیا بیگم نے غصے میں اگر تھپّڑ رسید
“دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا”
جا رہے ہیں اپنی بیگم کو وہ سمجھانے مگر
“کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا”
دے دیا ہے لکھ کے بھی ان کو کہ اک مسلم ہوں میں
“عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا”
لاکھ واشنگ پاؤڈر سے دھوؤ عاشق کا دماغ
“یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا”
خوش دلی سے گھر جمائی پھر سے بن جائیں گے ہم
“ہیں گرفتارِ وفا زنداں سے گھبرائیں گے کیا”
مل رہا ہے مفت میں پینے کو اب پانی وہاں
“ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں کھائیں گے کیا”
ہم تو ہیں شاعر بھی راغبؔ آپ ہیں شوہر فقط
“ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا”
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: 🙂 مرزا غالب کی ایک غزل پر مزاحیہ تضمین 😃, ID: 324
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 324 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: 🙂 مرزا غالب کی ایک غزل پر مزاحیہ تضمین 😃, ID: 324
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply