جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں پاکستان آنے کے بعد خیرپور میرس (سندھ) میں جو پہلا مکان ہمیں ملا، میں نے جس میں ہوش سنبھالا وہ محلہ “علی رضا شاہ کا تھلہ” میں تھا۔ 1948 تک ہندوستان کے سکے بھی چلتے تھے ابتدا میں پاکستانی سکوں میں پائی پیسہ، اکنی، دونی چونی، چاندی کا روپیہ بھی شامل تھا۔ سوراخ دار سکہ بھی کافی عرصہ تک رائج رہا۔
میرے ہوش میں یہ 1950 کی دہائی کا زمانہ تھا۔ 1957 میں ناز ہائی اسکول میں V کلاس میں داخلہ ہوگیا۔ اس وقت خیرپور میں ہندؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی تھی۔ ہندؤں کو مکمل آزادی حاصل تھی۔ اپنی مذہبی رسومات منانے کی بھی۔ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک بڑا سے مندر تھا۔ جب ہندؤں کا کوئی مذہی تہوار ہوتا تو مندر کے سامنے گلی میں گزرنے کی جگہ چھوڑ کر فرش بچھ جاتا۔ دور دور سے ہندو جمع ہوتے۔ گھنٹیاں بجائی جاتیں۔ پرشاد بٹتا۔ کبھی کبھی محلے کے لونڈے لباڑے بھی حصہ بٹورنے پہنچ جاتے۔ پیار محبت اور بھائی چارے کا سماں ہوتا۔
کبھی گلی میں رام رام کی آوازیں بلند ہوتیں ہم دوڑ کر باہر جاتے ۔ کسی ہندو کا جنازہ مرگھٹ جارہا ہوتا۔ سکے میت کے اوپر سے نچھاور کیے جاتے۔ لوٹنے والوں میں مسلمان بچے بھی شامل ہوتے۔ دل تو ہمارا بھی چاہتا لیکن ایک دو میت کا ڈر دوسرے ہمیں سختی سے منع تھا۔
گلی کے دونوں نکڑ پر دو ہندؤں کی دکانیں تھیں۔ ٹھارو مل اور ٹھاکو مل۔
ٹھارو مل بنیے کی پر چون کی دکان تھی۔ مسلمان اس کی دکان سے سودا سلف خریدتے ۔ٹھاکو مل بیڑیاں بناتا تھا۔ اس کا باپ رعشہ زدہ تھا لیکن بیڑیاں بنانے میں بیٹے سے زیادہ تیز۔
اکثر صبح اسکول جاتے وقت ہمیں دونوں ہندو دکاندار صرف دھوتی باندھے اشنان کرتے نظر آتے۔ پیتل کی چھوٹی سی لٹیا میں پانی ہوتا، سورج کی طرف منہ کرکے منہ ہی منہ میں کچھ بدبداتے اور پانی سر پر انڈیل لیتے۔ ہمیں آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیسا اشنان ہوتا تھا، کسی سے کبھی پوچھا بھی نہیں۔
محرم میں جلوس نکلتا۔ آس پاس کے علاقوں سے تمام چھوٹے بڑے جلوس ہماری گلی سے ہوکر تھلّے (بڑے چوک) میں پہنچتے۔ یہی گلی سیدھی وہیں نکلتی تھی۔ بیل گاڑیوں پر بڑے بڑے نقارے لدے ہوتے جنہیں مسلسل بجایا جاتا تھا۔ ماتم گزار دستے ہاتھوں اور ز نجیروں سے ماتم کرتے گزرتے رہتے۔ جگہ جگہ پانی اور شربت کی سبیلیں لگی ہوتیں۔ اس کے علاوہ جوان پیٹھ پر مشک لادے پانی پلاتے نظر رہتے۔ جلوس کے راستے میں ہندو بھی سبیلیں اور ابلے چنے، گہیوں ماتمی دستوں کی تواضع کے لیے رکھتے ہے۔
تھلے (بڑا چوک) میں جلوس کے ماتمی دستے زنجیروں، چھریوں، اور گول دستے والی نوکیلی سلاخوں سے ماتم کرتے۔۔ماتم گزاروں کے اطراف میں لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوتے ایک بار میں کوشش کرکے لوگوں کی اس دیوار بیچ در بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ اندر کا منظر کسی بھی کمزور دل کو دہلانے کے لیے کافی تھا۔ گھبرا کر میں فورا” باہر نکل آیا۔
اگر ہم کسی سے یہ کہیں کہ باریک سی سوئی کی صرف نوک ہی اپنے جسم داخل کرلے تو کبھی راضی نہ ہوگا۔ جو میں نے اس روز دیکھا وہ ماتم گزاروں کا کربلا کے شہیدوں سے عقیدت کا عجب ہی منظر تھا۔ زنجیروں اور قمہ کے ماتم کے ساتھ ہی کئی لوگ لوہے کی موٹی نوکدار سلاخ، گھنگرو بندھے دستے کے ساتھ تھامے ہوئے ایک جوش کے عالم میں یاحیسنؑ یاعباسؑ کی صدا لگاتے سلاخ کو کبھی اپنے گال تو کبھی ہونٹ کے آرپار کرلیتے تھے۔ خون میں تربتر ماتم گزار یہ لوگ ایک عجب ہی دنیا میں پہنچے ہوئے تھے۔ ہم میں سے بہت سے پڑھنے اور دیکھنے والے اسے بےوقوفی یا جہالت کا نام دیں لیکن میں اسے سراسر عقیدت کی انتہا سے تعبیر کروں گا۔ پچھلے سال امام حسینؑ کے روضے کی زیارت کے موقع پر میں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے افراد کے علاوہ ، ہندؤں، سکھوں اور عیسائیوں کو بھی حاضری دیتے دیکھا۔ امام حسینؑ کی قربانی نے حق و باطل کے مابین اپنے لہو سے جو لکیر کھینچ دی ہے یہ اس کی کرامت ہے۔ ہمارے یہاں بھی امام حسینؑ کو خراجِ عقیدت ہر مسلمان اپنے اپنے طریقے سے پیش کرتا ہے۔
ہمارے شہر خیرپور میرس میں اس وقت بے پردہ خواتین نظر نہیں آتی تھیں نہ ہی بازاروں میں خرید و فروخت کے لیے جاتیں۔ خریداری مردوں کا کام تھا۔ اسکول کالج میں بڑی بچیاں پیدل یا تانگوں میں جاتیں۔ تانگے والا خواتین سواریاں بٹھانے کے بعد سفید چادر تانگے کے گرد منڈھ دیتا۔
مجھے یاد ہے کراچی سے جب ہمارے مہمان گھر آتے تو اسٹیشن پر خواتین کے لیے برقعے لیجائے جاتے۔۔ 1973 میں ہم سب کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ میری شادی 1975 میں کراچی میں ہوئی۔ بڑی خالہ اور دوسرے رشتہ داروں سے ملنے جب خیرپور میرس اور سکہر گئے تو ہماری بیگم کے لیے خاص طور سے برقعہ کا بندوبست کیا گیا۔ اتنے برسوں بعد بھی وہاں کا ماحول نہیں بدلا تھا۔
ہم نے اپنے والد اور دوسرے مردوں کو دیکھا عورت کا احترام کرتے، اگر خواتین گلی سے گزر رہی ہوتیں تو وہ رک کر دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے رہتے جب تک خواتین گزر نہ جاتیں۔
سگریٹ پیتا کوئی نوجوان کسی بزرگ کو آتا دیکھتا تو سگریٹ پھینک دیتا یا چھپا لیتا۔
بلا تکلف چھوٹے بچوں کو اِدھر اُدھر گھومتے دیکھ کر بڑے ڈانٹ کر گھر بھیج دیتے۔
ایک واقعہ یاد کرکے آج بھی ہنسی آجاتی ہے۔ میں اپنے ابا کے ساتھ کہیں جارہا تھا برابر سے ایک نوجوان اسپنج کی چپلیں پہنے گزرا۔ اس زمانے میں نئی نئی اسپنج کی چپلیں چلی تھیں۔ بہت موٹے تلے والی۔ ایڑی کے ایک طرف سے اسپنج خاصہ دب گیا تھا۔ ابا نے یہ دیکھ کر اس نوجوان کو روک کر ڈانٹا کہ کیسے چلتے ہو۔ نہ جان نہ پہچان۔ ڈانٹنے کے بعد بولے کہ دائیں پیر کی چپل بائیں اور بائیں کی دائیں پیر میں پہنو گِھسے ہوئے حصے برابر ہوجائیں گے۔ اس بے چارے نے ایک نظر ابا کو دیکھا، چپل اتار کر بڑے صاحب اچھا کہہ کرحکم کی تعمیل کی، کچھ دور ایسے ہی چلا پھر رک کر دونوں چپلیں اتار کر ہاتھ میں پکڑیں اور پیچھے دیکھے بغیر دوڑ لگادی۔ آج یہ احترام اپنی اولاد میں بھی دیکھنے میں نظر نہیں آتا۔ ایک بار یہاں کراچی میں چند نوعمر لڑکوں کو میں نے سیگریٹ پیتے دیکھ کر منع کیا تو وہ مجھے بڑی عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ بیٹا میرے ساتھ تھا وہ بولا ابو کسی کو مت کچھ کہا کریں، کچھ الٹا سیدھا بول دیں گے۔
ایک بار ابا نے کوئی چیز لانے کے لیےمجھے کچھ پیسے دیے میں نے جیب میں رکھ لیے، کہنے لگے گِنو کتنے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے دیے ہیں ٹھیک ہی ہوں گے۔ بولے پیسے کسی کو دو یا لو گِن لینا چاہیے۔۔ برسوں بعد میں نے اپنے ایک بزرگ سے کچھ رقم لی دوسرے روز واپس کردینے کا کہہ کر جب واپس کرنے گیا تو پیسے دیتے ہوئے کہا بھائی جان گِن لیجیے۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ ڈانٹتے ہوئے بولے بدتمیز۔۔ میں خاموش ہوگیا۔ بہت روز بعد ملنے پر انہی بھائی جان نے کہا “خسرو تم نے 1000 کم واپس کیے تھے۔ میں یہ بھی نہ کہہ سکا کہ بھائی جان میں نےتو پورے پیسے گِن کر دیے تھے۔ جیب سے 1000 روپئے نکال کر جیسے ہی انہیں دینا چاہا پھر ڈانٹ سننا پڑی۔ بدتمیز۔۔۔۔
گھر میں 5 بجے کے بعد آفس کا دفتری تمام اخبارات لے کر آتا ۔ ابا انفارمیشن آفیسر تھے۔ رات میں اہم خبروں اور مضامین پر نشان لگاتے دوسرے دن دفتری آفس واپس لے جاتا اسٹاف کلپنگ کرتے۔ ہمیں یہ ہدایت تھی کہ جب بھی وہ دفتری آئے پانی اور چائے اسے خود جاکر دو۔ گھر میں اوپر کے کام کاج کے لیے ملازم لڑکا کے ہوتے ہوئے۔ مجھے بہت برا لگتا، چائے پانی کی ٹرے ہاتھ میں ہوتی لیکن ناگواری کے احساس سے میرے بازو اکڑے ہوتے۔
ابا رکشہ ٹیکسی میں بیٹھتے تو کرایہ پہلے طے کرلیتے تھے بعد میں خواہ زیادہ دے دیں۔ سودے میں دکاندار اگر چند پیسے بھی غلطی سے زیادہ دے دیتا تو فورا” جاکر واپس کرتے۔ اماں کو ہدایت تھی کہ جس قسم کا گلاس یا پیالی اپنے استعمال میں ہے ملازم یا ملازمہ کے لیے بھی وہی ہونا چاہیے بیشک الگ نکال کر رکھ دیں لیکن انہیں کسی قسم کی کمتری کا احساس نہ ہونے دیں۔
آج میرے بچے اور پوتے میرے نقشِ قدم پر چلتے نظر آتے ہیں تو میرا دل اپنے باپ کے لیے تشکر کے جزبات سے بھر جاتا ہے:-
“فرار”
گیلی ریت پہ چلتا
اپنے قدموں کے میں نقش بناتا !
ساحل تک اب آپہنچا ہوں !
میرے نقش قدم پر چلتے
میرے بچے!
میرا کھوج لگاتے
ساحل تک آپہنچے ہیں
کیا یہ ساحل
ان کی منزل ہے!
یا منزل کا یہ ساحل ہے !!
(فیروز ناطق خسروؔ) جاری ہے