ہر غم کو مسکراہٹ میں چھپانے آئے ہیں
زخموں پہ پیار کے پھول سجانے آئے ہیں
چاہت کی روشنی سے دلوں کو بھر دو
شام میں بھی سورج ابھارنے آئے ہیں
نفرت کے سائے کو مٹا دو دل سے
محبت کا دیا ہم جلانے آئے ہیں
زمانے کی تلخیوں کو اب بھلا کر
دوستی کے گیت ہم گانے آئے ہیں
دھوپ سہہ کر بھی مسکراتے رہو
یہی رازِ زندگی ہم سکھانے آئے ہیں
پھولوں کی خوشبو سے مہکاؤ محفل
رشتوں میں خوشبو بسانے آئے ہیں
اپنوں سے بچھڑ کر جو رہ نہ پائے
وہی بچھڑے پلٹ کر پانے آئے ہیں
دل میں جلتے چراغوں کو بجھنے نہ دو
ہم یہاں امید کے دیپ جلانے آئے ہیں
ہر درد کا علاج محبت میں ہے
یہی پیغام ہم دہرانے آئے ہیں
بچھڑ کے بھی رشتوں کو جوڑتے رہو
ہم دلوں میں یہ چراغ جلانے آئے ہیں
زمانے کی ٹھوکروں سے نہ گھبراؤ
ہم ہمت کا درس سکھانے آئے ہیں
یادوں کے چراغ بجھنے نہ دو
ہم وفا کا عہد نبھانے آئے ہیں
خوابوں کو حقیقت میں ڈھال دو
ہم سپنوں کو سچ بنانے آئے ہیں
سبھی کے لئیے ہی دعاء گو ہے معین!
انسانیت کا سبق سکھانے آئے ہیں
چیف سید معین شاہ