rki.news
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
مسجد مہابت خان خیبرپختونخوا پشاور کی ایک تاریخی عمارت ہے جو مغل دور میں 1670ء میں بنائی گئی تھی۔ یہ مسجد مغل طرزِ تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے اور خیبرپختونخوا پشاور کی ثقافتی اور مذہبی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس مسجد کا نام مغل گورنر نواب مہابت خان کے نام پر رکھا گیا تھا جو اکبر اور جہانگیر کے دورِ حکومت میں ایک نمایاں شخصیت کے طور جانے جاتے تھے۔
پشاور جو خیبر پختونخوا کا دارالحکومت ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں ایک اہم تجارتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز رہا ہے۔ اس شہر کی تاریخی اہمیت اس کے مختلف آثارِ قدیمہ، عمارات اور روایات سے واضح ہوتی ہے۔ مسجد مہابت خان بھی ان ہی قدیم آثار میں شامل ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک اہم عبادت گاہ اور روحانی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
27 رمضان المبارک کی شب، جو اسلامی تاریخ میں شبِ قدر کے طور پر بھی جانی جاتی ہے، پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان میں ایک عظیم الشان دعائیہ اجتماع منعقد ہوا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجتماع میں شکرانے کے نوافل ادا کیے گئے اور ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تقریب کے دوران خیبر پختونخوا کے چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی تخلیق 27 رمضان المبارک 1947 کو ہوئی اور یہ دن پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ریاست ہے جو دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور اس کی بقا کے لیے برصغیر پاک و ہند کی لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں۔
مسجد مہابت خان میں منعقدہ یہ اجتماع پاکستانی قوم کے لیے اتحاد، یکجہتی اور مذہبی وابستگی کی ایک علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رمضان المبارک کی یہ مقدس شب، جسے شبِ قدر بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ قرآن مجید کی سورۂ القدر میں اس شب کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
مسجد مہابت خان میں منعقد ہونے والا یہ اجتماع پاکستانی قوم کے عقیدے اور حب الوطنی کی ایک مثال ہے۔ ملک کی سالمیت، ترقی اور استحکام کے لیے کی جانے والی دعا اس بات کی علامت ہے کہ قوم ہمیشہ اپنی ریاست کے استحکام کے لیے متحد ہے۔
چیف خطیب مولانا طیب قریشی کی تقریر میں افواج پاکستان، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ان اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو تسلیم کرنے کا اظہار تھا۔ خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے افراد اور حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے سپہ سالار جنرل حافظ عاصم منیر کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی دعا کی گئی، جو اس اجتماع کی روحانی اور اجتماعی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
مسجد مہابت خان پشاور کا یہ دعائیہ اجتماع اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے اسلامی عقیدے، دو قومی نظریے اور ملکی سالمیت کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ اجتماع ایک تجدیدِ عہد بھی تھا کہ پاکستان کی ترقی، استحکام اور بقا کے لیے پاکستانی قوم ہمیشہ متحد رہے گی ان شا الله۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔