April 03, 2025
تازہ ترین / Latest

ٹی بی کاعلاج


تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com

کچھ دہائیاں قبل ٹی بی کا علاج نہیں تھا۔اگر کوئی فرد ٹی بی کے مرض کا شکار ہو جاتا تھا تو اس کی موت یقینی ہوتی تھی۔مرنےسے قبل موت کا تصور خاصہ ہولناک ہوتاہےاورٹی بی کا مریض اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔سائنسی ترقی کی وجہ سے اب ٹی بی کا علاج ممکن ہو گیا ہے۔علاج ہونے کے باوجود بھی ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔ہر سال لاکھوں افراد ٹی بی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ٹی بی ایک متعدی مرض ہے۔جب مریض کھانستا ہےتو ہوا کے ذریعے اس کی بلغم میں موجود ٹی بی کا بیکٹریا دوسرے انسان تک پہنچ جاتاہےاور اس طرح دوسرا فرد بھی ٹی بی کا مریض بن جاتا ہے۔ہر سال بڑی تعداد ٹی بی کے مرض کا شکار بنتی ہے،اموات ہونے کے باوجود بھی بڑی تعداد ٹی بی کے مرض کا علاج کر کےنارمل زندگی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔علاج کے دوران بھی انسان تمام معمولات زندگی گزار سکتا ہے،صرف ماہرین کی تجویز کی گئی ادویات کو استعمال کرے اور تھوڑا بہت پرہیزکرے۔ٹی بی کا علاج مہنگا بھی نہیں،بڑی تعداد علاج کے اخراجات برداشت کر سکتی ہے۔اس کے باوجود بھی حکومت کی طرف سےعلاج کی سہولیات تقریبا ہر ملک میں ٹی بی کے مریضوں کو دستیاب ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ کچھ ادارے بھی ٹی بی کاعلاج مہیا کرتے ہیں۔
ٹی بی کی کچھ علامات ہوتی ہیں،جن سے علم ہو جاتا ہے کہ ٹی بی کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔ٹی بی کے مریض رات کو اکثر گھبراہٹ کی وجہ سے نیند سے اٹھ جاتے ہیں۔پسینہ بھی بہت زیادہ آتا ہے۔کھانسی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہےاور کبھی کبھی خون یاخون کی الٹیاں بھی آنا شروع ہو جاتی ہیں۔تھکاوٹ بھی زیادہ محسوس ہوتی ہےاور ہر وقت کمزوری کا بھی احساس ہوتا ہے۔بھوک میں کمی یا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کرتا۔سردی بھی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے اور بخار بھی رہتا ہے۔کھانسی کے ساتھ بلغم بھی زیادہ آتی ہے۔تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کا بھی غلبہ رہتا ہے۔پھیپڑوں میں بعض اوقات پانی پڑ جاتا ہے۔سینے میں بعض اوقات سیٹی کی آوازیں آتی ہیں۔آواز بھی بیٹھ جاتی ہے اور گلے میں شدید درد ہونے کے علاوہ وزن میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔سینے میں درد بھی محسوس ہوتا ہے۔درج بالا علامات ٹی بی کی بھی ہو سکتی ہیں اور دوسرے امراض کی بھی۔اگر کسی کو اس جیسی علامات محسوس ہو رہی ہوں تو اس کو فورا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ڈاکٹر تشخیص کر کے علاج شروع کر دیتا ہے۔تشخیص کے لیےعلامات کے علاوہ،ایکسرےاور خون وغیرہ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔درست تشخیص کے بعد ڈاکٹر ادویات تجویز کرتا ہے۔مریض خود فیصلہ نہ کر لے کہ اس کو ٹی بی یا کوئی اور بیماری لاحق ہو گئی ہے۔بعض اوقات کئی امراض کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں،لہذا خود ساختہ علاج نہ شروع کیا جائےبلکہ ماہر ڈاکٹر کے زیرنگرانی علاج کیا جائے۔ٹی بی کے مریض کے لیے ڈاکٹر جو ادویات تجویز کرتے ہیں،وہ ادویات مریض کی عمر،بیماری اور وزن وغیرہ دیکھ کر تجویز کی جاتی ہیں۔بعض افراد گھریلو ٹونے ٹوٹکوں سے علاج شروع کر دیتے ہیں یا کسی اناڑی کےزیر نگرانی علاج شروع کر دیتے ہیں،ان کو ان فرسودہ طریقوں سے گریز کرنا چاہیے۔وقت ضائع کرنے کی بجائے فوری طور پر کسی قابل ڈاکٹر کی طرف رجوع کر لیا جائے۔بعض اوقات جو مرض پرائمری سطح پر ہوتا ہے،اس کا علاج کم مدت میں ہو سکتا ہےاور زیادہ سرمایہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔آج کل ہر فرد خود کو ڈاکٹر سمجھ کر دوسروں کو ادویات تجویز کر رہا ہوتا ہے،ایسے عمل سے گریز کیا جائےتاکہ دوسروں کی زندگیاں اور سرمایہ ضائع نہ ہو سکے۔ٹی بی کےمرض کوکنٹرول کرنے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو سکے علاج شروع کر دینا چاہیے۔کسی ماہر ڈاکٹر سےعلاج اس لیے کرانا بھی ضروری ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ٹی بی کے مریض کو کوئی اور مرض بھی لاحق ہو۔ٹی بی کے ساتھ اگر ایک یا ایک سے زیادہ امراض بھی لاحق ہو جائیں تو ڈاکٹر بیماریوں کو دیکھ کر بہتر علاج کر سکتا ہے۔ٹی بی کا مرض کا علاج چھ مہینے میں ہو سکتا ہے،بعض اوقات زیادہ لمبا عرصہ بھی علاج کرانا پڑ سکتا ہے۔علاج سے مریض کو گھبرانا نہیں چاہیے،کیونکہ علاج کرانے سے اس کو بہتر صحت حاصل ہو سکتی ہے۔ادویات کی پابندی بھی کرنا لازمی ہوتی ہے،اگرپابندی سےادویات استعمال نہ کی جائیں تو علاج متاثر ہو سکتا ہے۔بعض اوقات مریض ادویات کا استعمال چھوڑ دیتا ہے،چھوڑنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سمجھتاہےکہ اس کو صحت حاصل ہو گئی ہے،خود سے فیصلہ کر لینے کی بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے تو بہتر ہوتا ہے۔بعض اوقات مریض دوائی کھانا بھول جاتا ہے،بھولنے سے بچنے کی ضروری ہے کہ کسی دوسرے سے مدد لی جائے کہ وہ وقت پر مریض کو دوائی یاد دلا دےیا الارم وغیرہ کی مدد لے،تاکہ دوائی ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق استعمال کی جا سکے۔مریض کو احتیاط بھی کرنی چاہیے،کیونکہ اس کے کھانسنے سے دوسروں کو بھی مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ماسک وغیرہ استعمال کر کے بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ٹی بی کے مریض کے لیےعلاج کے علاوہ بہترغذا اوربہتر ماحول بھی ہونا ضروری ہے۔ٹی بی کا علاج تقریباسو فیصد ممکن ہے،لیکن میڈیکل کے اصولوں کے مطابق علاج کرنا ضروری ہے۔اموات کو روکنے کے لیےآگاہی پھیلانی ضروری ہے۔اگر ہم صفائی کا خاص خیال رکھیں توٹی بی سمیت کافی امراض سے بچ سکتے ہیں۔

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International