April 03, 2025
تازہ ترین / Latest
,Articles,Snippets / Saturday, March 29th, 2025

شکرانہ نعمت اور عیدالفطر


rki.news

حقوق و فرایض کی جنگ آسان کام نہیں جان جوکھوں والا جتن ہے، مگر جس نے حقوق و فرایض کی جنگ جیت لی وہی’ مقدر کا سکندر ہے، اللہ پاک نے متعدد فرشتوں کے ہوتے ہوئے بھی کھنکتی مٹی سے آدم کا بت بنا کر اس میں روح پھونک ڈالی، فرشتوں نے کہا مولا کیا ہم عبادت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا جو میں جانتا ہوں تم. نہیں جانتے میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے جا رہا ہوں اس میں خیر و شر دونوں صفات ہوں گی اسے علم کی دولت بے بہا سے بھی نوازا جاے گا ہاں اپنے علم کی بنا پہ سیدھے یا الٹے راستے کو اختیار کرنا اس کی اپنی صوابدید پہ منحصر ہو گا پھر اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا کہا، تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ماسوائے ابلیس کے اور نافرمانوں میں سے ہو گیا، جن و انس کو سر چشمہ ہدایت سے سرفراز کر کے آزاد چھوڑ دیا گیا اب ہم اپنے اپنے نامہ اعمال کے خود ذمہ دار ہیں اس کے لیے چوکیدار مقرر ہیں اور یوم حساب کو ناپ تول اور اعمال کی جانچ پڑتال کا بندوبست خوب ہو چکا ہے. لہٰذا اس چند روزہ سراے سے کیا دل لگانا.؟؟ جو اس بھید بھاو کو پا گیے، دنیا و آخرت میں فلاح پا گیے، آدم کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہی عبادات، اور حقوق و فرایض کی سختیاں انسانی جسم و جان پہ لاگو کر دی گءی تھیں. رمضان المبارک کے مہینے کے حوالے سے اگر روزوں ہی کی بات کر لیں تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں پہ بھی روزے فرض کیے گئے تھے، روزہ ایک ایسی جسمانی اور روحانی عبادت ہے جس کا درجہ بہت بلند ہے اور روزے کا اجر اللہ پاک خود عطا فرمائیں گے. قمری سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں عبادات کا ثواب کءی گنا زیادہ ہے،اس بابرکت ماہ صیام میں شیاطین کو جکڑ دیاجاتا ہے اور صبح سحری سے غروب آفتاب تک مسلمان اللہ کی رضا کے لیے بھوکے رہتے ہیں. پیٹ کی بھوک دنیا کے لوگوں کو درپیش تمام طرح کی بھوکوں میں سب سے بڑی بھوک ہے . اللہ پاک نے اسی بھوک کے درد سے آشنای کے لیے رمضان المبارک کے روزے تمام عاقل بالغ مسلمانوں پہ فرض کر دیے ہاں اگر کوی مسافرہو، بیمارہو اور خواتین کے مخصوص ایام ہوں، خواتین اگر حاملہ ہوں یا اپنے بچوں کو دودھ پلانے والی ہوں تو ایسے تمام مسائل کا حل ہے کہ یاتو کسی مستحق کو سحری اور افطاری کروا دی جاے یا رمضان المبارک کے بعد روزوں کی قضا ادا کی جاے. ماہ رمضان کے روزوں کے مکمل ہونے کے بعد اللہ پاک کے حکم کی ادای میں سرخرو ہونے کی خوشی میں تمام اہل اسلام یکم شعبان کو عیدالفطر مناتے ہیں، شوال کا چاند نظر آتے ہی مبارک سلامت کے شور کے ساتھ ساتھ پٹاخوں کا شور بھی شروع ہو جاتا ہے، ساتھ ہی پورے رمضان المبارک کے روزوں میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر جگانے والے ڈھولچی بھی ڈھول گلے میں لٹکا کر ڈھم ڈھم بجاتے ہوے ہر دروازے پہ آ کر عیدی وصول کرتے ہیں اور لوگ بھی خوشی خوشی انھیں مبارکیں دیتے ہیں. چاند رات کو بچیاں اور خواتین چوڑیاں پہنتی اور مہندی کے نت نیے ڈیزائنوں سے اپنے ہاتھوں کو سجاتی ہیں، چاند کو چھت پہ جا کر دیکھنے کا بھی اپنا ہی مزہ اور برکات ہیں، کپڑوں کی تیاری، درزیوں کے نخرے، مہنگائی کے جنات، مانگنے والوں کی بہتات، غرض یہ وہ ست رنگے لوازمات ہیں جو ہم اپنے بچپن سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں پہلے لوگ عید پہ کپڑے، جوتے خریدتے تھے اب لوگوں کی عید سارا سال ہی جاری و ساری رہتی ہے، کپڑوں اور جوتوں کا ایک نہ رکنے والا سیلاب اور انسانیت ان سب چونچلوں کے باوجود بھی سسکاریاں مارتی پھرتی ہے، عید شکرانہ، ادا کرنے سے پہلے گھر کے تمام افراد کا مقرر کردہ نصاب کے لحاظ سے فطرانہ ادا کرنا ضروری ہے، زکوٰۃ کی اداییگی بھی معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اشد ضروری ہے، اور سب سے ضروری بات ہے کہ صدقہ، زکوٰۃ اور فطرانہ مستحقین تک پہنچانے کا مناسب بندوبست، کیونکہ مستحقین شرما شرمی چپ کر کے بیٹھے رہتے ہیں اور عادی منگتے ہر شے پہ اپنا حق جماتے نظر آتے ہیں، عید شکرانہ والے دن گھر کی خواتین طرح طرح کے پکوان تیار کرتی ہیں، دوست احباب کی دعوتیں ہوتی ہیں، بڑے بچوں کو عیدی دیتے ہیں، یہ تمام عیدالفطر کی خوشیاں ہیں جو ہم ماہ رمضان کے اختتام پہ اللہ پاک کے سامنے اپنی عبادات کے سرخرو ہونے پہ مناتے ہیں مگر سب سے ضروری پیغام عیدالفطر اور ماہ صیام کا یہ ہے کہ ہمیں تشکر اور خوشی کے اس موقع پرغریب غربا اور مستحقین کا
بھی پورے طور سے خیال رکھنا چاہیے، تاکہ اللہ بھی راضی ہو اور ہماری روح بھی مطمئن رہے، تمام عالم اسلام کو عیدالفطر مبارک ہو.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendrpunnam@gmail.com

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International