April 03, 2025
تازہ ترین / Latest
,Articles,Snippets / Sunday, March 30th, 2025

عید کارڈز ۔۔۔ ایک دم توڑتی روایت


rki.news

عامرمُعانؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
وقت کا پہیہ دھیمے دھیمے اِس انداز سے گزرتا ہے کہ غیر محسوس انداز سے ہونے والی تبدیلیوں کا جب تک احساس ہوتا ہے وقت بہت کچھ تبدیل کر چکا ہوتا ہے۔ اس میں کچھ تبدیلیاں مثبت ہوتی ہیں تو کچھ تبدیلیاں منفی مگر یہ سب تبدیلیاں آپ کی روایات کی قبروں پر ہی تعمیر ہوتی ہیں۔ روایات جو نسلوں کی امین ہوتی ہیں دھیرے دھیرے بزرگوں کے قصوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں، وہ بزرگ یادوں کے ذخیرے سے کھود کھود کر نہایت حسرت و غم سے یہ تمام قصے محفل کو سناتے ہیں، کوئی غور سے دیکھے تو پتہ چلے کہ یہ قصے سناتے ہوئے اِن بزرگوں کی آنکھیں مانندِ ابر برسنے کو تیار ہوتی ہیں، وہیں محفل میں موجود جوانوں کی آنکھوں میں پشیمانی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے کہ ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پہلی نسل کی روایت تیسری نسل تک منتقل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے وہ قصہ بن کر رہ گئی ہے، اور بچوں کی آنکھوں میں حیرانی گھر کئے رہتی ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے ایسا بھی کبھی ہوتا تھا یا یہ سب فرضی قصے ہیں، اور وقت کی سویاں ٹک ٹک کی دھن پر تین نسلوں کے سفر کی داستان رقم کر رہی ہوتی ہیں۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے بہت سی روایات آپس کے میل ملاپ، محبت، قربت ، باہمی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے کرتے یوں عازم سفر ہوئیں کہ پھر یہ سب میل ملاپ، محبت، قربت، باہمی ہم آہنگی بھی جاتے جاتے ایک گھٹری میں باندھ کر اپنے ساتھ ہی لے گئیں، اور پیچھے وہ نئی روایات چھوڑ گئیں جن میں صرف حسرت و یاس اور بیگانہ پن رہ گیا ہے۔ ایسی ہے ایک خوبصورت روایت عید سے جڑی عید کارڈز کی بھی ہے۔ لفظ “ہے” اس لئے لکھا کہ شاید کم کم ہی سہی لیکن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کو یہ روایت زندہ رکھنے اور اس سے جڑے خوبصورت لمحات کو اپنی یادوں کے لئے یادگار بنانے کا شعور اب بھی باقی ہے۔ عید کارڈ ایک ایسی روایت ہے کہ جس میں لفظ محبت کی چاشنی اور رشتوں کی روشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ایک ایسی خوبصورت یاد ہے کہ جس کو سوچ کر بزرگوں کی آنکھیں نم اور بچوں کی حیران ہو جاتی ہیں۔ بزرگ وہ وقت یاد کرتے ہیں جب ان عید کارڈز کا انتظار کتنے ہی پرلطف لمحات پر محیط ہوتا تھا، اور بچے اس لئے حیران کہ اس وقت آخر اتنا وقت کہاں اور کیسے کسی کے پاس ہوتا تھا کہ وہ بازار جا کر پہلے خوبصورت عید کارڈز لائے، پھر ان کو خوبصورت انداز سےسجائے، اپنے ہاتھوں سے لکھی تحاریر اُن کارڈز پر جگمگائے، اور پھر وہ کارڈز محو پرواز ہو کر اپنے مطلوبہ فرد تک خوشیوں کا پیغام جا پہنچائے ۔ بچے تو اِس دور کے باسی ہیں کہ جہاں یہ اس سارے عمل سے تو بس ایک کلک میں جان چھڑائی جا سکتی ہے، کیونکہ وہ تو اُس جنریشن کے بچے ہیں جو فارورڈ میسجز کے ذریعے یہ سارا عمل چند سیکنڈ میں کر سکتے ہیں، اور نہائت قلیل وقت میں اس سارے عمل سے جان چھڑانے کے عادی ہیں۔ وہ عمل جو سارے کا سارا ایک مشینی عمل ہے،جس میں سیاہی کی خوشبو نہیں ہے،کاغذ کی مہک نہیں ہے، الفاظ کا جادو نہیں ہے، کسی بھی انسیت کی جھلک تک نہیں ہے، کسی طرح کی محبت کی چمک تک نہیں ہے، غرض کہ وہ تو بس ایک ایسا مشینی عمل ہے جس میں کچھ بھی تو نہیں ہے۔ کسی کا بھی موصول شدہ میسج کسی دوسرے کو فارورڈ کر کے بس ایک بے حس عمل کی انجام دہی ہے ۔ پہلے کارڈ وصول کرنے والے کو یہ احساس رہتا تھا کہ یہ کارڈ صرف اس کے لئے ہی بنایا اور سجایا گیا ہے ، اور اِس کارڈ کو سجانے سنوارنے پر صرف کیا گیا سارا وقت وہ محبت ہے جو اپنا احساس ساتھ لے کر آئی ہے،اور رشتوں کا تقدس قائم رکھے ہوئے ہے ۔ یہ احساس کہ بھیجنے والے کا خلوص اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کارڈز بھیجنے سے پہلے یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ حسبِ مراتب کس کو کس طرح کا کارڈ بھجوانا ہے، اور کس کو اُس سے تعلق اور رشتے کی مناسبت سے کیسا کارڈ دیا جانا چاہیے۔ اب تو موبائل سے ایکساتھ بہت سے لوگوں کو سلیکٹ کر کے ایک ہی میسج فارورڈ کرتے ہوئے یہ احساس تک نہیں جاگتا کہ ہر رشتے کے لئے کوئی جداگانہ اور نیا پن برقرار نہیں رہ پا رہا ہے۔ بیشک وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے اِس رونق اور اس میں چھپی خوشی کو مانند کرتا جا رہا ہے ۔ وہ کیا خوبصورت زمانہ ہوا کرتا تھا جب عید سے کچھ عرصہ پہلے بازاروں میں کارڈز کی دکانوں کو سجا دیا جاتا تھا۔ کئی کئی دن ان دکانوں کے چکر لگا کر ہر رشتے کے لئے الگ الگ کارڈز منتخب کر کے خریدے جاتے تھے، کارڈز گھر لانا اور پھر گھر بھر میں اس پر بحث کہ کس کو کیسا کارڈ بھیجا جائے۔ سب گھر والوں کا مل کر ان منتخب کارڈز کو بیل بوٹے بنا کر سجانا، ہر ایک کارڈ پر ان رشتوں کے لئے جامع اور خوبصورت تحریر منتخب کرنا اور ادبی ذوق اجاگر کرنے کے لئے خوبصورت اشعار لکھنا ۔دور دراز کے رشتہ داروں کے کارڈز خود جا کر حوالہ ڈاک کرنا اور نزدیکی رشتہ داروں کے کارڈز عید سے چند دن پہلے ان کے گھر پہنچا کر آنا ۔عید کے دن سب گھر والوں کا مل کر ڈاکیا کا انتظار کرنا کہ وہ دور دراز کے رشتے داروں کی طرف سے بھیجے گئے بہت سارے کارڈز لا کر خوشیوں کا دن مزید خوشیوں سے بھر دے گا۔ ایک ایک کارڈ کھولنا اور ہر ہر رشتے دار کو یاد کرنا ایسے جیسے عید کے دن دور ہوتے ہوئے بھی پاس ہونے کا احساس ہو۔ بہت جلد یہ سب لمحات بھی قصہ پارینہ بن کر بس بزرگوں کے قصوں کا ایک حصہ بن جائیں گے، اور اُن کی نم آنکھیں اس دور کو یاد کیا کریں گی کہ جب محبت خالص تھی اور اس کے اظہار کے لئے اپنوں کے دل میں بے پناہ گنجائش موجود تھی۔ بچے ان بزرگوں سے یہ سب قصے سنتے ہوئے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھیں گے اور شاید سوچیں کہ کیا اتنا وقت ضائع کرنے کی بھی کوئی خوشی ہوتی تھی جبکہ ہم یہ سب کام چند سیکنڈز میں کر لیتے ہیں اور کوئی خوشی بھی حاصل نہیں ہوتی،اور اس وقت نوجوان نسل شائد یہ سوچے کہ انہوں نے یہ خوبصورت روایت بچوں تک نہ پہنچا کر وقت کے دھارے کو معاشرے سے محبت اور رشتوں میں قربت ختم کرنے کا پورا موقع دیا ہے۔

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International