rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
امریکہ اور وینیزویلا میں کافی عرصے سے کشیدگی جاری تھی اور ان کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ تھے۔کئی دفعہ نظرآتا تھا کہ جنگ شروع ہونے والی ہے۔2025 کے ستمبر میں بھی حالات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ جنگ کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔امریکہ کا یہ الزام ہے کہ وینیزویلا منشیات بیچ رہا ہے اور اسلحہ کی سمگلنگ میں بھی ملوث ہے۔اب امریکہ نے وینیزویلا پر حملہ کردیاہے۔سب سے چونکا دینے والی خبر یہ تھی کہ وینیزویلا کے صدرنکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کےامریکہ لایا گیا ہے۔امریکہ میں نکولس پر فوجداری مقدمات چلیں گے اور سزا بھی دی جائے گی۔یہ ہو سکتا ہے کہ بہت کچھ دے کر امریکہ سے سمجھوتہ کر لیا جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ مناسب اقتدار کی منتقلی تک امریکہ وینیزویلا کو چلائے گا اور تیل کا انتظام بھی سنبھالے گا۔وینیز ویلاکی حکومت نے تمام امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ معدنیات اور تیل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔وینیز ویلا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریز نے امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ رد عمل فوری طور پر سامنےآنے کی توقع ہے۔ڈیلسی نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارےملک وینزویلامیں ہمارے لوگوں کے لیے ایک واضح حکومتی نظام موجودہے۔مزید کہا کہ وینیز ویلا کے صدر ابھی بھی نکولس مادورو ہیں۔امریکی صدر نے واضح اعلان کیا ہوا ہے کہ اقتدار کی منتقلی تک وینیز ویلا کا انتظام ہم سنبھالیں گے۔اقتدار کی مناسب منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ وینیز ویلا میں امریکی مفاد کا تحفظ کرنے والی حکومت اقتدار میں آجائے۔بہرحال امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور وینزویلا معاشی اور دفاعی لحاظ ایک کمزور ریاست ہے،اس لیے اب امریکہ آسانی سے وینیز ویلا کو نہیں چھوڑے گا۔
وینیز ویلا تیل کے بہت بڑے ذخیرے کا مالک ہےاور دوسری معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔اس ملک کی دولت دوسروں کو متوجہ کر رہی ہے۔دفاع اور سیاسی لحاظ سے یہ ملک اتنا مضبوط نہیں،اس لیے آسانی سے امریکہ نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ہو سکتا ہے وینیز ویلا جوابی کروائی کرے،لیکن واضح نظر آتا ہے کہ جنگ وینیز ویلا کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔اب بھی شہری آبادی پر حملہ ہوا ہے اور فوجی مرکز پر میزائل بھی داغے گئے ہیں۔دار الحکومت کراکس میں کئی مقامات پر آگ بھی بھڑک اٹھی ہے۔امریکہ کا شدید حملہ وینیز ویلا کو تباہ کر سکتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وینیز ویلا کی حکومت امریکہ کے آگے جھک جائے گی اور مطالبات آسانی سے تسلیم کر لیے جائیں گے۔ہو سکتا ہےوینیزویلا کی طرف سے مزاحمت شروع ہو جائے،لیکن کامیابی کا امکان نہ ہونے کےبرابر ہے۔اب وینیز ویلا کی دولت کو قبضہ میں لیا جائے گا اور وہاں کی عوام مزید غربت میں دھکیل دی جائے گی۔پہلے بھی وینیزویلا میں غربت کی شرح بہت ہی زیادہ ہے۔امریکہ دنیا کو دکھانے کے لیے ایک نام نہاد حکومت بھی قائم کر دے گا،لیکن وہ حکومت بھی امریکی مفادات کا تحفظ کرے گی۔
بلا شبہ ایک آزاد ریاست پر حملہ کرنا غیر قانونی ہے،لیکن حملہ کر دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ نے بھی امریکی کاروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔چین اور روس کے علاوہ دیگرکئی ممالک نے بھی امریکہ کےاس عمل پر شدید تنقید کی ہے۔بہرحال یہ تنقید یا تشویش امریکہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔یہ عالمی برادری کا اخلاقی فرض بھی ہے کہ امریکہ کو پابند کیاجائے کہ دوسروں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے۔اب مادورو کو مقدمے میں سزا بھی دے دی جائے گی اور کم امکان ہے کہ اس کوآزاد کر دیا جائے۔اگر واقعی وینیز ویلا کی حکومت منشیات فروشی میں ملوث ہے تو یہ بھی ایک جرم ہے۔بالفرض وینیزویلا منشیات فروشی میں ملوث نہیں تو ایک نام نہاد الزام لگانا بھی جرم ہے۔امریکہ کی طرف سے زمینی فوج بھی اتارنے کا امکان نظر آرہا ہے.(ہو سکتا ہے جس وقت یہ سطریں پڑھی جا رہی ہوں اس وقت جنگ شروع ہو چکی ہو)وینیز ویلا نہ تو فضائی دفاع کر سکتا ہے اور نہ زمینی،اگردوسری طاقتیں اس کی مدد کریں تو شاید اپنا دفاع کر سکے۔بہرحال یہ بہت ہی مشکل لگتا ہے کہ وینیزویلا کی کوئی دوسری ریاست مدد کرے۔وینیز ویلا کو جلد یا بدیر فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ امریکی مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے۔امریکہ میں نکولس کو سخت سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ایسا دوسروں کو سبق سکھانے کے لیے بھی کیا جائے گا،کیونکہ اس عمل سے دوسروں پر زبردست دھاک بیٹھ جائے گی۔کسی بھی ملک پر حملہ کر کے اس کے صدر کو گرفتار کرنا اور اپنے ملک لے آنا بہت ہی مشکل عمل ہے لیکن ایسا ہو چکا ہے۔وینیز ویلا کی دولت کو حاصل کرنے کے لیے شاید دوسری طاقتیں بھی امریکہ کا ساتھ دینے کے لیے آجائیں۔بہرحال اس وقت تو حالات امریکہ کے حق میں نظر آرہے ہیں۔امریکہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور وینیز ویلا پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے زمینی جنگ کا بھی اغاز ہو سکتا ہے۔یہ دوسروں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ اگر اپنا دفاع مضبوط نہ کیا جائے تو اس طرح حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔سیاسی استحکام بھی ضروری ہوتا ہے اور حکومت کہ عوام کے ساتھ رابطے مضبوط ہونے چاہیے،تب ہی کوئی ریاست مضبوط ہو سکتی ہے۔وینیز ویلا کی عوام کی بھی غلطیاں ہیں،اگر ملک کو مضبوط کیا ہوتا تو آج یہ دن ان کو نہ دیکھنا پڑتا۔بعض ریاستیں معاشی طور پر مضبوط نہیں لیکن دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں اس لیے وہ اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔وینیز ویلا شاید کچھ عرصہ مزاحمت کر سکے لیکن زیادہ دیر تک امریکہ کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔بہرحال یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک ازاد ریاست پر حملہ کر دیا جائے لیکن پہلے بھی بارہا ہو چکا ہے اورآیندہ بھی ہوتا رہے گا۔