rki.news
اکادمی ادبیات پاکستان ہمیشہ سے اردو زبان و ادب کی ترویج کا ایک معتبر ادارہ رہی ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی رہی کہ ادارے کی کارکردگی، سہولیات اور انتظامی توجہ میں وہ تسلسل برقرار نہ رہ سکا جو ایک قومی ادبی ادارے کا حق بنتا ہے۔ ایسے میں جب ندیم ظفر صدیقی نے اردو ادبیات پاکستان کی ذمہ داری سنبھالی تو ادبی حلقوں میں ایک نئی امید نے جنم لیا اور یہ امید جو اب آہستہ آہستہ بہتری کی نوید میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے یعنی امید کی جارہی ہے کہ اب کچھ بہتر ہونے جا رہا ہے۔
ندیم ظفر صدیقی کو بجا طور پر “اکادمی ادبیات کا مسیحا” کہا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی آمد کے بعد ادارے کے مجموعی مزاج میں ایک سنجیدگی ، شفافیت اور عملی سوچ نمایاں ہوئی ہے۔ ندیم صاحب محض فائلوں اور بیانات کے منتظم نہیں، بلکہ ادب کے مزاج اور ادیب کے دکھ کو سمجھنے والے انسان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نیت، دیانت اور انتظامی بصیرت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع اور وسائل میسر آئیں تو اکادمی ادبیات ایک بار پھر اپنے وقار کو بحال کر سکتی ہے۔
تاہم اس تصویر کا ایک رخ نہایت تلخ بھی ہے، جو خصوصاً اکادمی ادبیات پاکستان کراچی مرکز کی زبوں حالی کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ کراچی، جو ادب کے حوالے سے ایک مکمل دبستان رکھتا ہے، جہاں ترقی پسند تحریک سے لے کر جدیدیت اور مابعد جدیدیت تک کے مضبوط نقوش ثبت ہیں، وہاں اکادمی ادبیات کا مرکز ایسی حالت میں ہے کہ سنجیدہ ادبی گفتگو بھی ماحول کی بدنظمی اور سہولیات کی کمی میں دم توڑتی محسوس ہوتی ہے۔
اکادمی ادبیات کے کراچی مرکز میں موجود پلاسٹک کی کرسیاں جن کی چرچراتی ہوئی آواز نہ صرف سماعت کو اذیت دیتی ہے بلکہ ادبی وقار کو بھی مجروح کرتی اور اس کے زوال کی ایک علامت بنتی نظر آرہی ہے۔۔ باہر سے آنے والے مہمان، بزرگ ادیب، شاعر اور محققین جب ایسے ماحول میں بیٹھنے پر مجبور ہوں تو یہ محض جسمانی کوفت نہیں بلکہ ادارہ جاتی بے حسی کا اعلان بھی بن جاتا ہے۔ ادب جس توجہ اور احترام کا تقاضا کرتا ہے وہ بدقسمتی سے کراچی مرکز میں مفقود دکھائی دیتے ہیں۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کراچی محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک تہذیبی ادب کی مکمل کائنات ہے۔ یہاں کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے اردو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروایا ہے۔ ایسے شہر میں اکادمی ادبیات کے مرکز کو خصوصی توجہ، بہتر انفراسٹرکچر، معیاری فرنیچر، جدید سہولیات اور فعال ادبی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں، بلکہ قومی سطح پر اردو ادب کی ساکھ کا سوال ہے۔
ندیم ظفر صدیقی اس تناظر میں ایک امید افزا کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ ایک بہترین اور ایماندار منتظم کے روپ میں کراچی مرکز کے لیے نئے مسیحا نظر آتے ہیں، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تنہا نیک نیتی اور صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے سرکاری سطح پر سنجیدہ اقدامات، بجٹ کی فراہمی، اور ساتھ ہی ساتھ فلاحی اور ادبی اداروں کا آگے آنا ناگزیر ہے۔ادبی تنظیمیں، مخیر حضرات، کارپوریٹ سیکٹر اور ثقافتی ادارے اگر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی مرکز کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں تو یہ ایک مشترکہ قومی خدمت ہوگی۔ ادب کسی ایک فرد یا ادارے کی میراث نہیں، یہ اجتماعی شعور اور تہذیبی بقا کا مسئلہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ندیم ظفر صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان میں بہتری کی جو شمع روشن کی ہے، اسے میں ان کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے وژن کو ادارہ جاتی، سماجی اور مالی تعاون حاصل ہو جائے تو نہ صرف کراچی مرکز بلکہ پورے ملک میں اکادمی ادبیات ایک بار پھر اردو ادب کا حقیقی گہوارہ بن سکتی ہے ایک ایسا گہوارا جہاں ادب کو عزت، ادیب کو احترام اور زبان کو زندگی میسر آئے گی۔