rki.news
محمد طاہر جمیل
دوحہ، قطر
احسان انسانی کردار کی اعلیٰ ترین صفت ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو انسان کو صرف اچھا نہیں بلکہ بہترین انسان بناتی ہے۔ احسان کا مطلب ہے نیکی کرنا، بھلائی کرنا اور دوسروں کے ساتھ بہترین رویہ اختیار کرنا، خواہ سامنے والا اس کا مستحق ہو یا نہ ہو۔ کسی کی مدد بغیر کسی فائدے کی توقع کے کرنا، اچھا سلوک کرنا، حتیٰ کہ بدسلوکی کے جواب میں بھی بہترین طرزِ عمل اختیار کرنا ہی احسان ہے۔ اسلامی تعلیمات میں احسان کو ایمان اور تقویٰ کے بعد نہایت بلند مقام حاصل ہے۔
احسان کر کے اس کا بدلہ لینے کا نہیں سوچنا چاہیے۔ اگر احسان پانے والا احسان فراموشی کا مظاہرہ کرے تو بھی دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ محسن کسی بدلے کی خاطر احسان نہیں کرتا اور نہ ہی کسی صلے کی توقع رکھتا ہے۔ اسی لیے اسے احسان فراموشی کا دکھ نہیں ہوتا۔ محسن کا مقصد تو صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے، کیونکہ درحقیقت ہم سب پر سب سے زیادہ احسان اللہ تعالیٰ کے ہیں، اور احسان کا اصل بدلہ بھی وہی عطا فرماتا ہے۔
احسان معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور امن کو فروغ دیتا ہے۔ جہاں احسان عام ہو جائے وہاں نفرت، حسد اور دشمنی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ النحل میں فرماتے ہیں:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾
(بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَأَحْسِنُوا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾
(احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)
مشہور دانشور اشفاق احمدؒ کے بقول، کسی سے احسان کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ جتنا کسی کا حق بنتا ہو یا جتنی توقع ہو، اس سے کچھ زیادہ دینا۔ احسان کرنے والے اجناس فروش کا باٹ وزن سے تھوڑا بھاری ہوتا ہے اور اس کا درجن تیرہ کا ہوتا ہے، کیونکہ احسان کا مفہوم ہی یہ ہے کہ کچھ بڑھ کر اچھا کیا جائے۔ احسان کے یہ بھی معنی ہیں کہ انسان دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، ان کی مدد کرے اور ہر معاملے میں بہترین طرزِ عمل اختیار کرے۔
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کو فرض کیا ہے۔”
سب سے بہترین احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت خلوص، خشوع اور اخلاص کے ساتھ کی جائے؛ والدین کا ادب، خدمت اور اطاعت کی جائے؛ غریبوں، یتیموں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جائے؛ اور جانوروں پر رحم کیا جائے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے۔
نیکی وہ چراغ ہے جو دل میں جلایا جاتا ہے، جبکہ احسان وہ خوشبو ہے جو خود بخود پھیل جاتی ہے۔ مختصراً، احسان ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور انسانوں کے دلوں میں محبوب بنا دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں احسان کو اپنا شعار بنائیں اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔
اللہ رب العزت ہمیں احسان کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں احسان فراموشی سے محفوظ رکھے۔
آمین۔