rki.news
(تحریر احسن انصاری)
وینزویلا گزشتہ ایک دہائی سے شدید سیاسی، معاشی اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے کے باوجود بدانتظامی، کرپشن، تیل کی پیداوار میں کمی اور بین الاقوامی پابندیوں نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید ختم کر دی جبکہ خوراک، ادویات، ایندھن اور بجلی کی قلت روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی۔ لاکھوں وینزویلائی شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں لاطینی امریکا کی تاریخ کا ایک بڑا مہاجر بحران پیدا ہوا۔
جنوری 2026 کے آغاز میں وینزویلا کا بحران اس وقت ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوا جب امریکہ نے وینزویلا میں فوجی حملے کیے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے لیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی قومی سلامتی کے تحفظ اور وینزویلا کی قیادت پر عائد طویل عرصے سے جاری سنگین الزامات کے پیشِ نظر کی گئی۔ امریکہ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ عبوری دور میں وینزویلا کے انتظامی معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔ اس غیر معمولی اقدام نے وینزویلا کے اندرونی بحران کو ایک عالمی سفارتی اور قانونی تنازع میں تبدیل کر دیا۔
امریکی کارروائی کے فوراً بعد دنیا بھر کے ممالک نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ 3 جنوری 2026 کو سب سے پہلے لاطینی امریکی ممالک نے امریکی حملوں کی مذمت کی۔ برازیل نے اسے وینزویلا کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کیوبا نے اس کارروائی کو ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیا جبکہ میکسیکو نے خبردار کیا کہ یکطرفہ فوجی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار بنا سکتی ہے۔ چین اور روس نے بھی امریکی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ریاستی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔ ایران نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
اگلے چند دنوں، یعنی 3 سے 4 جنوری 2026 کے دوران عالمی ردِعمل مزید وسیع ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی کارروائی کو ایک ’’خطرناک مثال‘‘ قرار دیتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں۔ یورپی یونین کے حکام نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوجی حل کے بجائے مذاکرات پر زور دیا۔ فرانس نے واضح کیا کہ فوجی کارروائی دیرپا سیاسی حل فراہم نہیں کر سکتی۔ جنوبی افریقہ، چلی، یوراگوئے اور کولمبیا سمیت کئی ممالک نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ تاہم ارجنٹینا جیسے چند ممالک نے مادورو کی برطرفی کو مثبت قرار دیا، مگر فوجی مداخلت کی مکمل حمایت سے گریز کیا۔ یہ ردِعمل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا وینزویلا میں حکمرانی کے مسائل اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے درمیان توازن تلاش کرنے میں الجھی ہوئی ہے۔
ان واقعات کے انسانی اثرات نہایت سنگین ہیں۔ وینزویلا کے عوام پہلے ہی غذائی قلت، ادویات کی کمی اور صحت کی سہولیات کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ عام شہریوں، بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی کارروائی میں شہریوں کا تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔
معاشی اور توانائی کے حوالے سے بھی اس بحران کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر عالمی توانائی منڈی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ سیاسی بے یقینی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی کارروائی نے قانونی اور اخلاقی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین اس معاملے پر منقسم ہیں۔ کچھ ماہرین کے نزدیک سنگین جرائم کے خلاف سخت اقدام ناگزیر ہوتا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ کسی منتخب صدر کو بغیر بین الاقوامی منظوری کے گرفتار کرنا اقوام متحدہ کے نظام اور عالمی اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ اخلاقی طور پر بھی یہ سوال اہم ہے کہ احتساب اور شہریوں کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
عالمی سطح پر عوامی ردِعمل بھی نمایاں رہا۔ بیرونِ ملک مقیم وینزویلائی کمیونٹیز نے مادورو کی برطرفی کو امید کی کرن قر…